’حکومت سیاسی فائدے کے لیے خواتین ریزرویشن کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے‘، ملکارجن کھڑگے کا پی ایم مودی کو خط
کھڑگے نے لکھا کہ ’ناری شکتی ادھینیم 2023 کو پارلیمنٹ نے ستمبر 2023 میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس وقت کانگریس کی جانب سے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اہم قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘

کانگریس کے قومی صر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ ریاستوں میں انتخابات کے دوران پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت سیاسی فائدے کے لیے خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کھڑگے نے اس مطالبے کو دوہرایا ہے کہ حد بندی کے مسئلے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 29 اپریل کے بعد ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی جائے۔ کیونکہ اس حد بندی کو ’ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023‘ میں ترامیم سے جوڑا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ملکارجن کھڑگے کا یہ خط وزیر اعظم مودی کے اس خط کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے 16 اپریل سے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا تذکرہ کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ (11 اپریل) کو وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’’مجھے ابھی ابھی 16 اپریل سے ناری شکتی وندن ادھینیم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے سلسلے میں آپ کا خط موصول ہوا ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ناری شکتی ادھینیم 2023 کو پارلیمنٹ نے ستمبر 2023 میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اہم قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ حالانکہ وزیر اعظم نے اپنے خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس کے فوری نفاذ کے لیے وسیع اتفاق رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نافذ نہیں کیا۔
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’تب سے 30 ماہ گزر چکے ہیں اور اب ہمیں اعتماد میں لیے بغیر یہ خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے اور آپ کی حکومت حد بندی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیے بغیر ہم سے دوبارہ تعاون مانگ رہی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حد بندی اور دیگر پہلوؤں کی تفصیلات کے بغیر اس تاریخی قانون پر کوئی بامعنی بحث کرنا ناممکن ہو گا۔‘‘