حکومت کسانوں سے بات چیت کے لئے تیار، کسان تھوڑی دیر میں کریں گے فیصلہ

زرعی قانون کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں کسان سڑکوں پر ہیں اور ان کا احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

کسانوں کے بڑھتے غصہ کو دیکھتےہوئے مرکزی حکومت نے کسانوں کے نمائندوں سےآج سہ پہر تین بجے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور اس کے لئے حکومت نے کسان رہنماؤں کو مدعو کیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے زرعات نریندر سنگھ تومر نےکسانوں کو بات چیت کے لئےبلایا ہے۔کسان اس دعوت نامہ سے متعلق اپنی حکمت عملی طےکرنے کےلئے اب سے تھوڑی دیر میں یعنی آٹھ بجےایک میٹنگ کرنے جا رہےہیں۔

واضح رہے نئے زرعی قانون کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں کسان سڑکوں پر ہیں اور ان کا احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ حکومت نے پہلےانہیں روکنے کے لئے پانی کی بوچھاروں سے لے کر لاٹھی چارج تک کا استعمال کیا لیکن اب ان کے بڑھتی ناراضگی کو دیکھتے ہوئےانہیں بات چیت کے لئے مدعو کیاہے۔

احتجاج کر رہے کسانوں نے کہا تھا کہ وہ چاہے کورونا سے مر جائیں لیکن وہ اپنےمطالبات منوا کر ہی واپس جائیں گے اور اس قانون کی واپسی سےکم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ کسانوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ حکومت ان کے مطالبات مانےنہیں تو یہ تحریک مزید شدت اختیار کر لے گی۔کسانوں نے کہا ہےکہ یہ ایک تاریخی لڑائی ہے اور حکومت کو ان کی بات ماننی ہی پڑےگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 Dec 2020, 7:39 AM
next