منریگا کو ختم کرنے پر حکومت کی تنقید، سدارمیا کا مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کااعلان
سدا رمیا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران منریگا کو ختم کر دیا اوراس کی جگہ ’وی بی جی رام جی‘ ایکٹ نافذ کردیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسکیم کو منسوخ کرنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔

دیہی روزگار گارنٹی اسکیم (منریگا) کے خلاف مرکزی حکومت کے اقدامات کی شدید مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) زیر قیادت مرکزی حکومت پر منریگا اسکیم کو ختم کرنے کا الزام لگایا اور اس کی بحالی تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا۔ وزیراعلیٰ نے یہاں ’منریگا سنگرام بچاؤ‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے ایک نئے قانون کے ذریعہ دیہی روزگار اسکیم کو تبدیل کرنے کے خلاف کانگریس پورے ملک میں لڑائی لڑے گی۔
سدارامیا نے الزام لگایا کہ آج پورے ملک میں ’منریگا بچاؤ‘ مہم شروع ہو گئی ہے۔ کرناٹک میں بھی اس کی شروعات ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران منریگا کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ ’وی بی جی رام جی‘ ایکٹ نافذ کردیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسکیم کو منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو2005 میں سونیا گاندھی کی قیادت میں آنجہانی منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے ہوئے نافذ کیا گیا تھا تاکہ دیہی مزدوروں، قبائلیوں، چھوٹے کسانوں اور خواتین کو روزگار فراہم کیا جا سکے۔ سدارامیا نے الزام لگایا کہ یہ قانون پارلیمنٹ میں مناسب بحث کے بغیر پاس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 17 دسمبر 2025 کو صرف 8 گھنٹے کی بحث ہوئی۔ 18 دسمبر کو بل پاس ہوگیا اور گرام سوراج ایکٹ نافذ ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ منریگا کی منسوخی سے تقریباً 12 کروڑ مزدور متاثر ہوئے ہیں جن میں سے تقریباً 53 فیصد خواتین اور 28 فیصد کا تعلق درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل سے ہے۔ مہاتما گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا نام ان کے نام پر رکھا گیا تھا کیونکہ ان (مہاتما گاندھی) کا ماننا تھا کہ گاؤں کی ترقی اور ’گرام سوراج‘ کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کرسکتا۔
سدارامیا نے بتایا کہ منریگا کے تحت گاؤں میں کام چاہنے والا کوئی بھی شخص گرام پنچایت کو درخواست دے سکتا تھا اور اسے سال میں 100 دن کے روزگار کی گارنٹی دی جاتی تھی، ایسا نہ ہونے پر معاوضہ دینا پڑتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئے قانون نے گرام پنچایتوں کے اختیارات کو کم کر دیا اور فیصلہ سازی کا اختیار مرکزی حکومت کو منتقل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ طے کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے کہ کون سا کام کیا جائے گا۔ دہلی سے فنڈ منظور ہوئے بغیر پنچایت میں کام شروع نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔