’حکومت نے زندگی کے آخری مرحلے میں ہمیں سڑک پر لا کھڑا کیا‘، پنشن یافتگان کی ملک گیر تحریک کل

قومی تحریک کمیٹی کے کنوینر کمانڈر اشوک راؤت نے کہا کہ ’’ہماری قومی جدوجہد کمیٹی ای پی ایس-95 پنشن یافتگان کو انصاف دلانے کے لیے گزشتہ 7 سالوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پنشن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

پنشن، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

ملک بھر کے لاکھوں پنشن یافتگان ای پی ایس-95 قومی جدوجہد کمیٹی کے بینر تلے ای پی ایف او اور وزارت محنت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ یہ پنشن یافتگان گزشتہ کئی سالوں سے دہلی کے جنتر منتر اور رام لیلا میدان میں مظاہرہ کر چکے ہیں۔ کئی مظاہرین مہاراشٹر میں ضلع مجسٹریٹ آفس کے سامنے بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے ہیں۔

قومی تحریک کمیٹی (این اے سی) کے تحت تحریک کر رہے پنشن حاصل کرنے والے ای پی ایف او کی ایمپلائی پنشن اسکیم (ای پی ایس-95) کے تحت کم از کم پنشن بڑھا کر 7500 روپے ماہانہ کرنے کے ساتھ مہنگائی بھتہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ای پی ایس-95 پنشنرس کو بغیر کسی تفریق کے ہائی پنشن کا متبادل دینے، سبھی ای پی ایس-95 پنشنرس اور ان کے شریک حیات کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔


این اے سی کے کنوینر کمانڈر اشوک راؤت نے کہا کہ ہماری قومی جدوجہد کمیٹی ای پی ایس-95 پنشن یافتگان کو انصاف دلانے کے لیے گزشتہ 7 سالوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی کی قیادت میں وزیر اعظم سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں اور پی ایم مودی سے یقین دہانی کے باوجود بھی ہمارے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا۔

اشوک راؤت کا کہنا ہے کہ ’’حکومت عوامی فلاح کے لیے کئی طرح کے پنشن منصوبے مناسب انداز سے چلا رہی ہے، لیکن حکومت کے اصولوں کے ماتحت پنشن فنڈ میں تعاون کرنے کے بعد ہمیں حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ ہمیں خودداری کے ساتھ زندگی جینے کے لیے 1171 روپے کافی نہیں ہیں۔ 7500 اور ڈی اے پنشن حاصل کر ہم خود داری سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس سنجیدہ ایشو پر کارروائی پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں ہو۔ اگر مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں تو ہم نے طے کر لیا ہے کہ سڑتے سڑتے نہیں بلکہ لڑتے لڑتے مریں گے۔ ہم صرف اپنی خودداری کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے۔ حکومت کو فوراً ہمارے مطالبات پورے کرنے چاہئیں۔‘‘


اشوک راؤت اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’یہ بے حد افسوسناک ہے کہ ملک جب آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، ملک کے بزرگ اپنے حق کے لیے سڑکوں پر اتر کر لڑ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ہم نے زندگی بھر ملک کو اپنی محنت سے سینچا ہے، لیکن زندگی کے آخری مرحلے میں ہمیں حکومت نے سڑک پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب رسوئی گیس کا ایک سلنڈر ملنے والے پنشن سے زیادہ کا ہے تو پھر حکومت بتائے کہ پورے مہینہ گزارا کیسے ہوگا؟ اس ملک کے جو سب سے ضعیف لوگ ہیں وہ شاید آج دنیا کے سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ 15 مارچ سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرہ کو لے کر ہر طرح کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ مظاہرہ کے ساتھ ہی ضعیف پنشنرس کے ذریعہ راستہ روکو تحریک کے ساتھ ہی عزت مآب وزیر اعظم کے نام کی عرضداشت اپنے اپنے ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر میں دیں گے۔ یہ مظاہرین مہاراشٹر، گوا، بہار، پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، ایم پی، یوپی، راجستھان گجرات، آسام، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، مغربی بنگال، اتراکھنڈ وغیرہ ریاستوں کے 200 سے زیادہ مقامات پر راستہ روکو تحریک چلائیں گے۔ ساتھ ہی دہلی میں وزیر محنت کے دفتر کے سامنے ’خاموش مظاہرہ‘ بھی کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔