’گورکھ دھندا‘... گورکھ پنتھیوں کو کیا اپنے ہی پنتھ کی تاریخ معلوم نہیں

خبروں کے مطابق راجستھان میں بی جے پی نے اپنے منشور میں ’گورکھ دھندا‘ لفظ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کی دلیل ہے کہ اس سے سَنت گورکھ ناتھ کے عقیدتمندوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

By مرنال پانڈے

بی جے پی نے راجستھان اسمبلی انتخاب کے لیے جو منشور جاری کیا ہے ان میں بے شمار وعدے ہیں لیکن ایک وعدہ ایسا ہے جو کافی دلچسپ ہے۔ وہ وعدہ ہے ’گورکھ دھندا‘ لفظ پر پابندی لگانے کا۔ مرکزی وزراء ارون جیٹلی اور پرکاش جاوڈیکر کے ساتھ وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے اس منشور کو جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس لفظ سے ’گورکھ پنتھیوں‘ کے نام سے پکارے جانے والے گرو گورکھ ناتھ کے عقیدتمندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

انتخابی منشور کمیٹی کے رکن اونکار سنگھ لکھاوت نے اس سلسلے میں کہا کہ گرو گورکھ ناتھ کے عقیدتمندوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے اس ’گورکھ دھندا‘ لفظ پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور اس کے لیے قانون بنایا جائے گا۔ بی جے پی نے اس کے ساتھ ہی راجستھان کی نصابی کتابوں میں گرو گورکھ ناتھ کی سوانح حیات کے ساتھ ہی ’تنتر سادھنا‘ اور ’یوگا‘ کو شامل کرنے کے علاوہ گرو گورکھ ناتھ کا جودھپور میں اسمارک بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جودھپور میں ناتھ طبقہ کے لوگوں کی اچھی آبادی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گرو گورکھ ناتھ دور وسطیٰ کے ایک بڑے مذہبی لیڈر اور سماجی مصلح تھے۔ انھوں نے ذہنی ارتکاز کے لیے کئی یوگا اور دماغی ورزش کو شروع کیا۔ دور وسطیٰ کی مشہور ہستی پنڈت ہزاری پرساد دویدی کو ناتھ پنتھی طبقہ کا اسکالر سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’گورکھ دھندا‘ ایک قسم کی پیچیدہ دماغی ورزش یا دماغی کھیل ہوتا تھا جسے خود گرو گورکھ ناتھ نے ایجاد کیا تھا۔ اس ورزش کے ذریعہ وہ اپنے بنجارے عقیدتمندوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے ان عقیدتمندوں کو سماج میں ذات سے عاری طبقات کے قیام کا حکم دیا تھا۔

ہندی میں ’دھندا‘ کے لفظی معنی کسی کام یا کاروبار کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں دھندا لفظ کا استعمال ’دھندا دھری‘ کے طور پر ہوتا ہے جو کہ ایک قسم کا چکر ہوتا ہے۔ گورکھ پنتھی لکڑیوں یا لوہے کی چھوٹی چھڑوں سے ایک پائپ یا جال جیسا بناتے تھے۔ اس جال کے مرکز میں ایک سوراخ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ایک دھاگے میں کوڑی باندھ کر اس سوراخ میں ڈالا جاتا تھا۔ اس ورزش یا کھیل میں شامل ہونے والوں کو منتر پڑھتے ہوئے دھاگے میں بندھی اس کوڑی کو بغیر دھاگے کے الجھے یا کسی دیگر شئے کو چھوئے نکالنا ہوتا تھا۔ گورکھ پنتھیوں کا ماننا تھا کہ جو اس کوڑی کو صحیح طریقے سے باہر نکال لیتا تھا اس پر گرو گورکھ ناتھ کا خصوصی کرم ہوتا تھا اور وہ زندگی بھر کسی بھی قسم کے جنجال میں نہیں الجھتا تھا۔

اس طرح دیکھا جائے تو ’گورکھ دھندا‘ کوئی نازیبا لفظ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لفظ تو خود گرو گورکھ ناتھ نے بنجارہ گورکھ پنتھی سادھوؤں کے لیے ایجاد کیا تھا۔ ایسے میں ’گورکھ دھندا‘ لفظ پر پابندی لگائی جانے کی تجویز کی مخالفت ہونی چاہیے، لیکن سیاسی جملے بازی میں مہارت حاصل کر چکی پارٹی جب جدید تاریخ کو ہی نہیں سمجھتی تو دور وسطیٰ کو کیسے سمجھے گی۔ اس سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ گورکھ ناتھ پنتھ کے ماننے والوں کو اپنی ہی تاریخ کا کوئی علم نہیں ہے۔