یومِ آزادی پر تلنگانہ کے کسانوں کو ملا تحفہ، ایک لاکھ تک قرض معاف کرنے کا اعلان

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندر شیکھر راؤ نے جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی وعدہ کے مطابق کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے زرعی قرضہ جات کی معافی کیلئے احکام جاری کئے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد،15اگست(یواین آئی)تلنگانہ بھر میں آج یوم آزادی کی تقاریب کے موقع پر قومی پرچم لہرائے گئے،روایتی پریڈ ہوئی اور کئی کلچرل پروگراموں کا اہتمام کیاگیا۔اصل تقریب قلعہ گولکنڈہ میں منعقد کی گئی جس میں وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ نے ترنگا لہرایا اور مسلح پولیس کے جتھوں کی سلامی لی۔

قبل ازیں وزیراعلی نے سکندرآباد پریڈ گراؤنڈس کے قریب یادگار شہیداں پر گلہائے عقیدت پیش کیا۔ضلع ہیڈ کوارٹرس میں کلکٹرس اور اعلی عہدیداروں نے قومی پرچم لہرایا۔ہائی کورٹ اور ریاستی اسمبلی کامپلکس میں بھی جشن آزادی کی تقاریب منعقد کی گئیں۔سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت ٹی آرایس، کانگریس اور بی جے پی کے دفاتر میں بھی جشن آزادی کی تقاریب منائی گئیں۔


قلعہ گولکنڈہ میں قومی پرچم لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ نے ریاست کی ترقی کے لئے متعارف کردہ بیشتر اسکیمات کا تفصیلی احاطہ کیا جن کی گزشتہ پانچ برسوں میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رعیتو بیمہ اور رعیتوبندھو جیسی اسکیمات ملک کے لئے ایک مثال ہیں۔یہ کہتے ہوئے کہ ریاست،اعتماد کے ساتھ آگے پیشرفت کر رہی ہے، انہوں نے کہاکہ ریاست کا پیداواری شعبہ آگے رہا ہے جبکہ کئی دہائیوں سے ریاست کو درپیش مسائل کا حل نکالا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مواضعات کی ترقی کے لئے 60روزہ ایکشن پلان کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے زونل سسٹم کے مطابق روزگار فراہم کیاجائے گا۔

وزیر اعلی راؤ نے مواضعات اور ٹاونس میں سرسبزی وشادابی میں اضافہ کی ضرورت پر بھی زور دیا اورناکارہ بورویلز کو بند کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہاکہ انتخابی وعدہ کے مطابق کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے زرعی قرضہ جات کی معافی کیلئے احکام جاری کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت دی جانے والی زرعی مالی امداد 8000روپئے کو بڑھا کر 10ہزار روپئے سالانہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم ملک میں ریاست کے کسانوں کے لئے انوکھی اسکیم ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بہ حیثیت مجموعی اصلاحات اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات کی فراہمی کے حصہ کے طورپر حکومت نے پہلے ہی نیا پنچایت راج اور میونسپل ایکٹ نافذ کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی اسمبلی کے آئندہ بجٹ کے موقع پر نیا ریونیو ایکٹ متعارف کیاجائے گا۔مجوزہ ایکٹ کے ذریعہ رشوت کاخاتمہ ہوگا اور کسی لاپرواہی کو جگہ نہیں دی جائے گی۔


چندرشیکھر راؤ نے کہاکہ قدیم ریونیو ایکٹس نے کسانوں اور عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔ہم کو ان نقصانات کا خاتمہ کرنا ہے۔حکومت نیا ریونیو ایکٹ تیار کررہی ہے۔حکومت کا یہ ماننا ہے کہ بہتر حکمرانی، نظم ونسق کے اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔بیشتر موجودہ ایکٹس بہتر حکمرانی اور رشوت خوری کے خاتمہ کیلئے کافی نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے نیا پنچایت راج اور نیا میونسپلٹی قانون نافذ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے ریونیو ایکٹ کے ساتھ انہیں یقین ہے کہ مواضعات سرسبزی و شادابی کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے ہوں گے۔نئے ایکٹ کی تیاری عوام اور کسانوں کے لئے رکاوٹ سے پاک خدمات کے لئے کی جارہی ہے۔

وزیراعلی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صاف صفائی میں بہتری اور ریاست بھر میں سرسبزی وشادابی میں اضافہ کی فوری ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے مواضعات اور ٹاونس کے لئے 60روزہ ایکشن پلان کی تجویز تیار کی ہے۔حکومت نے ادارہ جات مقامی کے لئے اس 60روزہ ایکشن پلان کے آغاز سے پہلے فائنانس کمیشن کی گرانٹس سے فنڈس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مواضعات اور ٹاونس میں صاف صفائی کی بہتری کے ذریعہ صحت کے لئے خطرات کو امکانی طورپر دور کرنا ہمارے منصوبہ کا مقصد ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے پہلے مرحلہ کا مقصد عوام کی شراکت کے ذریعہ مواضعات اور ٹاونس میں سینی ٹیشن کی بہتری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے بعد ہر گاوں اور ٹاون صاف ہوگا، یہاں سے کچرے کی نکاسی کی جائے گی اور اس کو تلف کیاجائے گا۔غیر صحت مندانہ حالات سے اکثر غریب افراد متاثر ہوتے ہیں۔


معاشی محاذ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ معاشی ترقی ضروری ہے اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریاست کی عملی مالیاتی پالیسی کے نتائج سامنے آئے ہیں۔تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر یہ چار لاکھ کروڑ روپئے تھی جو اب بڑھ کر 8.66لاکھ کروڑ روپئے ہوگئی۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں معیشت کی ترقی ہورہی ہے۔اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہ ریاست مستحکم معیشت اور معاشی ترقی کر رہی ہے، انہوں نے کہاکہ یہ مالیاتی نظم،کرپشن کے خاتمہ اور حکومت کی جانب سے تیز تر اور بروقت فیصلوں کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رپورٹ کے مطابق مالیاتی سال 2018-19میں ہماری ریاست مجموعی گھریلو پیداوار میں سرفہرست رہی۔اس کی شرح ترقی 14.84فیصد رہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔