اجیت پوار کو عدالت سے بڑی راحت، سینچائی گھوٹالہ کے 17 معاملوں میں ملی کلین چٹ

مہاراشٹر میں تقریباً 70 ہزار کروڑ کے مبینہ سینچائی گھوٹالہ میں اے سی بی نے نومبر 2018 میں سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار پر الزام عائد کرتے ہوئے انھیں بھی اس گھوٹالہ کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

این سی پی لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو بمبئی ہائی کورٹ نے سینچائی گھوٹالہ معاملہ میں بڑی راحت دی ہے۔ انھیں سینچائی گھوٹالہ کے 17 معاملوں میں عدالت سے کلین چٹ مل گئی ہے۔ اے سی بی (انسداد بدعنوانی بیورو) نے 27 نومبر کو بمبئی ہائی کورٹ میں کلین چٹ کو لے کر حلف نامہ داخل کیا تھا جس پر عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔ اے سی بی کے حلف نامہ کے مطابق وِدربھ سینچائی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین رہے اجیت پوار کو ایجنسیوں کے کاموں کے لیے ذمہ دار نہیں مانا جا سکتا۔ ایسا اس لیے کیونکہ اجیت پوار کے پاس کوئی بھی قانونی ذمہ داری نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں تقریباً 70 ہزار کروڑ کے مبینہ سینچائی گھوٹالہ میں اے سی بی نے نومبر 2018 میں سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ مہاراشٹر اے سی بی نے بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ کروڑوں روپے کے مبینہ سینچائی گھوٹالہ میں اس کی جانچ میں ریاست کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور دیگر سرکاری افسروں کی جانب سے زبردست چوک کی بات سامنے آئی ہے۔

قابل غور ہے کہ اجیت پوار کے پاس مہاراشٹر میں 1999 سے 2014 کے دوران کانگریس-این سی پی حکومت میں محکمہ زراعت کی ذمہ داری تھی۔ اے سی بی کے ڈائریکٹر جنرل سنجے باروے نے ایک خودمختارہ ادارہ ’جن منچ‘ کی جانب سے داخل عرضی کے جواب میں ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا۔

Published: 6 Dec 2019, 11:11 AM