بہار میں ہلاکتوں کا سلسلہ، برہم گری راج اپنی ہی حکومت پر حملہ آور!

بہار میں نظم و نسق کی بدترین صورت حال پر مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ ’’بہار کی حکومت میں ہم بھی شراکت دار ہیں، لہذا، سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ہم اس پر کیا بولیں!‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما گری راج سنگھ نے بہار میں نظم و نسق کی بدرین ہو چکی صورتحال کے حوالہ سے اپنی ہی سیاسی جماعت کو پس و پیش میں ڈال دیا ہے۔ منگل کے روز بہار میں بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات پر انہوں نے مخلوط حکومت چلا رہی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو نشانہ بنایا۔

بیگو سرائے سے رکن پارلیمنٹ گری راج نے منگل کے روز نظم و نسق پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹویٹ کیا، ’’بیگوسرائے میں جرائم عروج پر ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ جب تک میں مقتول کے متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کرتا ہوں، اتنے میں ایک اور قتل ہو جاتا ہے! انہوں نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 10 افراد کو گولی مار دی گئی ہے، جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ میں نے بجل پورہ، تیگھڑا میں سوجیت کے متاثرہ کنبہ سے ملاقات کی۔ اس طرح سے نہیں چلے گا، میں سینئر پولس افسران سے بات کروں گا۔‘‘

ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار کا نام لئے بغیر گری راج سنگھ نے ریاست کے امن و امان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ، ’’میں حکمران جماعت سے ہوں، کیاں کہوں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ گری راج نے اس دوران متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی۔

بی جے پی کے ایک شعلہ بیان رہنما سمجھے جانے الے گری یراج نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ، ’’مچہا، بیگوسرائے میں ہونے والے قتل نے بیگو سرائے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کنبہ سے مل کر انہیں تسلی دی اور خاندان کے باقی افراد کو پولس سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد گری راج سنگھ نے بیگوسرا ئے کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور نظم و نسق کی صرت حال کو بہتر بنانے کے لیے غور خوض کیا۔

غورطلب ہے کہ دیوالی کی رات سِنگھول تھانہ علاقہ میں جرائم پیشہ افراد نے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

Published: 29 Oct 2019, 6:18 PM
next