حد بندی کمیشن کی تجاویز، دونوں خطوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو: غلام نبی آزاد

غلام نبی آزاد کے مطابق حکومت کا مقصد کشمیر کی اراضی پر کیسے قبضہ کرنا تھا یہ سب کچھ سامنے آرہا ہے اور ہر روز اس بارے میں نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کانگریس کے سینئر اور سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد نے حد بندی کمیشن کی تجاویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں خطوں میں برابری کی بنیاد پر سیٹوں کی تقسیم ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چھ سیٹیں خط چناب، اُدھم پور اور کٹھوعہ کو ملنی چاہئے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے ڈوڈہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک حد بندی کمیشن کی تجاویز کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ برابری کی بنیاد پرہی فیصلہ لیا جانا چاہئے۔سابق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حد بندی کرنے کا فیصلہ آبادی اور ایریا کو دھیان میں رکھتے ہوئے لیا جاتا ہے۔


غلام نبی آزاد کے مطابق جموں صوبے میں آبادی او ایریا کے حساب سے خط چناب پہلے نمبر پر اُس کے بعد کٹھوعہ اور اُدھم پور آتے ہیں اور ان ہی تین علاقوں کو چھ سیٹیں ملنی چاہئے۔اُنہوں نے کہاکہ مجھے اُمید ہے کہ چھ سیٹوں کو ان تین علاقوں میں ہی تقسیم کیا جائے گا۔

سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق کانگریس برابری کی بنیاد پر سبھی اضلاع کو انصاف فراہم کرنے کی بات کرتی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایس ٹی کا تعلق ہے تو جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں ایس ٹی کی آبادی لگ بھگ ایک جیسی ہے لہذا اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہی برابری کی بنیاد پر سیٹوں کی تقسیم کا فیصلہ لیاجانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کو کافی وقت دیا گیا ۔اس سے قبل عوامی جلسے سے خطاب کے دوران غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں وکشمیر کا یہ المیہ ہے کہ ایک ریاست کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 تو بہانہ تھا کیونکہ اب آہستہ آہستہ سب کچھ عیاں ہو رہا ہے کہ مرکزی حکومت کی کیا منشا تھی۔مسٹر آزاد کے مطابق یہاں کی اراضی پر کیسے قبضہ کرنا تھا یہ سب کچھ سامنے آرہا ہے اور ہر روز اس بارے میں نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔


انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کی منسوخی کو تعمیر وترقی کے ساتھ جوڑا گیا لیکن آج جو صورتحال جموں وکشمیر میں ہے وہ کبھی بھی نہیں تھی۔حکومت کی جانب سے تعمیر وترقی کے حوالے سے کئے جانے والے دعوئے اور وعدئے سبھی سراب ثابت ہو ئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔