مودی کا پیچھا نہیں چھوڑے گا گجرات فسادات کا بھوت

وزیر اعظم نریندر مودی کی فائل تصویر

نریندر مودی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ گودھرا کے واقعے (سابرمتی ایکسپریس میں آتش زدگی) کے بعد تین دنوں تک گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت وہ برسر اقتدار تھے۔

مضمون نگار: سہیل انجم

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی کتاب ’’سرکاری مسلمان‘‘ آج کل سرخیوں میں ہے۔ یوں تو یہ ان کی ایک خود نوشت ہے لیکن اس میں گجرات فسادات سے متعلق ایک باب موضوع بحث ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور اب متعدد نیوز چینلوں اور ویب سائٹوں سے گفتگو میں بھی اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اگر گجرات کی اس وقت کی انتظامیہ چاہتی تو 48 گھنٹے میں فسادات رک سکتے تھے۔

انھوں نے جو کچھ کہا ہے اس کی تفصیلات منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ انھوں نے یکم مارچ کی رات میں دو بجے اس وقت کے وزیر اعلی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی، اس وقت ان کے ساتھ اس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز بھی تھے، اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے کہا تھا۔ اگر تین ہزار نفری پر مبنی ان کے فوجی دستے کو لاجسٹک سپورٹ مل گئی ہوتی یعنی آمد و رفت کے لیے گاڑیوں کا بروقت انتطام ہو گیا ہوتا تو فسادات پر قابو پا لیا جاتا۔ لیکن اس تعلق سے فوج کا ایک سے زیادہ دن برباد ہو گیا۔ اس طرح انھوں نے ریاستی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے۔

اس کتاب کا اجراء 13؍ اکتوبر کو سابق نائب صدر حامد انصاری کے ہاتھوں عمل میں آچکا ہے۔ اس موقع پر بھی گجرات فسادات سے متعلق بہت سی باتیں سامنے آئیں۔ کتاب پر ایک پینل مباحثہ بھی ہوا۔ حامد انصاری نے بھی اپنے خطاب میں انتظامیہ کی ناکامی پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کتاب فسادات کے دوران سیاسی قیادت کے رول پر خاموش ہے۔ اس میں اس سلسلے میں کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔ لیکن اگر لا اینڈ آرڈر کی خرابی پر قابو پانے میں سول اور پولس انتظامیہ ناکام رہتی ہے تو پھر جمہوری نظام میں اس کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ جب آئین مرکزی حکومت کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر کسی ریاست میں داخلی گڑبڑ ہے تو وہ دفعہ 355 کا استعمال کرکے ریاست کو اس گڑبڑی سے نکالے تو پھر اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس وقت مرکز میں اٹل بہاری واجپئی کی زیر قیادت این ڈی اے کی حکومت تھی۔ واجپئی نے فسادات کے دوران گجرات کا دورہ بھی کیا تھا اور ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی نریندر مودی سے راج دھرم نبھانے کو بھی کہا تھا جس پر مودی نے کہا تھا کہ صاحب ہم وہی تو کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ واجپئی نے مودی کو برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن اس وقت کے وزیر داخلہ اور مودی کے سیاسی گرو ایل کے اڈوانی نے اس کی مخالفت کی۔ ان کی ضد کے آگے واجپئی کو جھکنا پڑا تھا۔

بعد میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم ایس آئی ٹی نے نریند رمودی کو فسادات کی ذمہ داری سے بری کر دیا اور کہا کہ لاجسٹک سپورٹ میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ اس نے یہ فیصلہ اس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری، داخلہ، اشوک نرائن کی گواہی کی بنیاد پر کیا۔ ضمیر الدین شاہ کہتے ہیں کہ ابھی کچھ دنوں قبل تک میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے لا علم تھا۔ اب مجھے اس کا علم ہوا ہے۔ بقول ضمیر الدین شاہ ایس آئی ٹی کی یہ بات کہ کوئی تاخیر نہیں ہوئی سفید جھوٹ ہے۔ اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل بدمنابھن نے ضمیر الدین شاہ کے بیان کی تائید کی ہے۔ البتہ ایس آئی ٹی کے سربراہ سی بی آئی کے سابق ڈائرکٹر اور قبرص کے موجودہ سفیر آر کے راگھون نے اس سلسلے میں سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا۔

گجرات فسادات کے بارے میں انگریزی کے نامور صحافی سعید نقوی نے اپنی انگریزی کتاب Being th Other میں جس کا اردو ترجمہ ’’وطن میں غیر۔ ہندوستان کے مسلمان‘‘ کے نام سے فاروس میڈیا ابوالفضل انکلیو نئی دہلی نے شائع کیا ہے، روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مودی کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ مودی کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے اور انھیں عدالتوں اور انکوائری کمیشنوں نے بری کر دیا۔ لیکن مودی ا س حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ گودھرا کے واقعے (سابرمتی ایکسپریس میں آتش زدگی) کے بعد تین دنوں تک گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت وہ برسر اقتدار تھے۔ بعد میں بے شمار خوفناک اور لرزہ خیز حادثات کی رپورٹیں شائع ہوئیں۔ مردوں اور عورتوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے بچوں کے سامنے قتل کیا گیا۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر ان کے حمل کو پٹخ دیا گیا اور بہت بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور آتش زنی کی گئی‘‘۔ سعید نقوی نے اور بھی بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جو فسادات کی بیان کردہ وجوہات، فسادات کی ابتدا اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

یہ بات تو درست ہے کہ ایس آئی ٹی نے نریندر مودی کو بری کر دیا ہے لیکن کیا کوئی حکمراں ایسے معاملات میں اپنی ذمہ داری سے بچ سکتا ہے۔ جب کسی علاقے میں کسی بڑے جرم کے واقع ہونے کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران کو ذمہ دار قرار دے کر معطل یا ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے تو پھر پوری ریاست کے مالک کو ذمہ دار کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ فسادات کے دوران نریند رمودی کے رول کے بارے میں سنجیو بھٹ اور دوسرے افسروں نے روشنی ڈالی ہے۔ سنجیو بھٹ نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی نے پولس انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ ہندووں کو اپنا غصہ نکالنے دو۔ جس کی وجہ سے تین دن تک بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سنجیو بھٹ کو اس حق گوئی کی سزا ملی اور اب تک مل رہی ہے۔ دوسرے ایسے بہت سے افسران بھی حق گوئی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ایسے میں قبرص کے سفیر اپنی زبان کیوں کھولیں گے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ تو اب ملک کے وزیر اعظم ہیں۔

بہر حال گجرات کے فسادات ایسے نہیں تھے کہ انھیں بھلا دیا جائے۔ کوئی نہ کوئی اٹھتا رہے گا اور فسادات کے بارے میں حکومت و انتظامیہ کے رول پر تبصرہ کرتا رہے گا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ عدالتیں اگر چہ مودی کو بری کر دیں لیکن وقت کی عدالت سے وہ اب بھی بری نہیں ہوئے ہیں۔ وقت ایک روز ان کے بارے میں ضرور فیصلہ سنائے گا۔ یہ ایسا المیہ ہے جو نریندر مودی کا پیچھا کرتا رہے گا۔

یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ضمیر الدین شاہ نے اب کیوں زبان کھولی ہے، اب سے پہلے وہ کیوں خاموش تھے۔ اس کا جواب وہ یوں دیتے ہیں کہ پہلے وہ اپنی فوج کی ملازمت اور پھر مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ میں مصروف تھے۔ انھیں اپنی یادداشتیں لکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اب انھیں وقت ملا اور اس لیے انھوں نے اب اپنی یادداشتیں قلمبند کی ہیں۔ لیکن اس سوال کے باوجود کہ ضمیر الدین شاہ نے اتنی تاخیر سے کیوں زبان کھولی، ان کی باتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے مشاہدات غیر اہم ہو سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول