حیدر آباد الیکشن: 45 اقلیت امیدواروں کے سر بندھا جیت کا سہرا، اویسی کی پارٹی سے 41 فتحیاب

بی جے پی نے واحد مسلم امیدوار مرزا عقیل آفندی کو دبیر پورہ سیٹ سے کھڑا کیا تھا جہاں اے آئی ایم آئی ایم امیدوار علمدار حسین نے فتح کا پرچم لہرایا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

جی ایچ ایم سی (گریٹر حیدر آباد میونسپل کارپوریشن) انتخاب میں اس مرتبہ 45 مسلم امیدواروں کے سر جیت کا سہرا بندھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیرت انگیز مظاہرہ کرنے والی بی جے پی نے جس ایک مسلم امیدوار کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا، اسے شکست ہاتھ لگی ہے۔ گویا کہ 48 سیٹ حاصل کرنے والی بی جے پی کی طرف سے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا ہے۔ 55 سیٹ حاصل کرنے والی ٹی آر ایس (تلنگانہ راشٹر سمیتی) کے 4 مسلم امیدواروں کو کامیابی ملی ہے اور سب سے زیادہ 41 امیدوار اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی طرف سے فتحیاب ہوئے ہیں۔

بی جے پی نے واحد مسلم امیدوار مرزا عقیل آفندی کو دبیر پورہ سیٹ سے کھڑا کیا تھا جہاں اے آئی ایم آئی ایم امیدوار علمدار حسین نے فتح کا پرچم لہرایا۔ ٹی آر ایس کی جانب سے محمد بابا فصیح الدین (بورابندا)، شیخ حمید (کونڈا پور)، صبیحہ بیگم (اللہ پور) اور راشدہ بیگم (چنتل) نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے 44 کامیاب امیدواروں میں 3 غیر مسلم ہیں، بقیہ مسلم امیدوار فتحیاب ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ انتخاب میں اگر کسی پارٹی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے، تو وہ بی جے پی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ مرتبہ یعنی 2016 میں حاصل 4 سیٹوں کے مقابلے اس مرتبہ 48 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ گویا کہ اسے 44 سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔ گزشتہ مرتبہ 99 سیٹیں حاصل کرنے والی ٹی آر ایس 55 سیٹوں پر کامیابی کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ضرور بن گئی، لیکن 44 سیٹوں کا خسارہ کوئی چھوٹا موٹا نقصان نہیں ہے۔ اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کو پچھلی بار بھی 44 سیٹیں ملی تھیں، اور اس مرتبہ بھی 44 سیٹیں ہی ملی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Dec 2020, 7:11 PM
next