مسلمان نے ہندو کے سامنے گئو کشی کی،ایل ایل بی امتحان میں  پوچھا گیا متنازعہ سوال

دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ’گرو گووند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی‘ کے ایل ایل بی سال سوم کے امتحان میں پوچھے گئے متنازعہ سوال کے معاملہ کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت اور تشدد کی خبریں آج عام ہو گئیں ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں نفرت بھرنے کا کھیل کس کس سطح پر کیا جا رہا ہے اس کی ایک مثال دہلی میں دیکھنے کو ملی، جب ایک قانون کی تعلیم دینے والی یونیورسٹی نے قانون کے طلبا سے سوال کرتے ہوئے اپنی ذہنیت بھی نمایاں کر دی۔ سوال میں مسلمانوں کو ظالم اور ہندوؤں کے جذبات بھڑکانے والا ظاہر کر کیا گیا ہے۔

’احمد مسلم ہے۔ اس نے سرِ بازار ہندوؤں روہت، تشار، مانو اور راہل کے سامنے گائے کا قتل کیا۔ تو کیا احمد نے جرم کیا ہے۔‘ دہلی کی گرو گووند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی (جی جی ایس آئی پی یو) نے ایل ایل بی کے تیسرے سیمسٹر کے امتحان کے لئے جو سوال نامہ تیار کیا ہے اس میں یہ سوال شامل کیا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق متنازعہ سوال والا لا آف کرائم فرسٹ کا امتحان 7 دسمبر کو ہوا تھا۔

متنازعہ سوال والے پرچہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔ یونیورسٹی سے منظور شدہ 10 کالجوں میں یہ پرچہ تقسیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ معاملہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی نے اس کے لئے معذرت کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ متنازعہ سوال کو پرچہ سے باہر مانا جائے۔ طلبا کے نمبرات میں اس سوال کے نمبروں کو نہیں جوڑا جائے گا۔

پرچہ میں جو سوال پوچھا گیا ہے اس کے مطابق گائے قتل کرنے والے احمد پر آئی پی سی 295 اے (مذہبی جذبات بھڑکانا) اور 429 (ممنوعہ جانور کا قتل) کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ساتھ ہی دہلی ایگریکلچر کیٹل پریونشن ایکٹ 1994 کے تحت بھی اس پر جرم بنتا ہے لیکن جرم کرنے والے یا پھر گواہان کے ہندو یا مسلمان ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے اس سوال پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر جانچ میں یہ پایا جاتا ہے کہ پیپر تیار کرنے والے نے اس سوال کو غلط ارادے سے ڈالا ہے تو اس پر آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (دو فرقوں میں دشمنی پید کرنا) کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر 3 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

ادھر دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے اس معاملہ کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ منیش سسودیا نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بے حد افسوس ناک معاملہ ہے۔ یہ سوال بھائی چارہ کو ختم کرنے کی کوشش لگتا ہے۔ جس نے بھی یہ کوشش کی ہے، جانچ کے بعد اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دراصل سپریم کورٹ کے وکیل بلال انور خان نے متنازعہ سوال والے پرچہ کی تصویر ٹوئٹر پر ڈالی تھی۔ بلال نے تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا، ’’یہ نیا چلن ہے، ایک پورے طبقہ کو غیر انسانی قرار دینے کا۔ قومی راجدھانی علاقہ کے نریلا میں واقع ایک قانون کی یونیورسٹی میں ایل ایل بی سال سوم کا پرچہ (انہوں نے اس کی تصویر ساتھ میں شیئر کی تھی)۔ بلال نے اس ٹوئٹ میں نارتھ ایسٹ نریلا کے چندر پربھو جین کالج آف ہائر اسٹدیز اینڈ اسکول آف لا کو ٹیگ کیا ہے۔

اسکول آف لا کی ڈین نے دی ٹیلی گراف کو بتایا، ’’مجھے لگتا ہے کہ سوال ایک خیالی صورت حال کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور عدالت کے سامنے ایسی کوئی بھی صورت حال آساکتی ہے۔ قانون کے طلبا کے طور پر اس میں کچھ بھی غلط نظر نہیں آتا۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ اس میں ایک خاص مذہب کو ظاہر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا، ’’کیا یہ سب سماج میں نہیں ہو رہا ہے؟ سماج میں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ رہتے ہیں تو ایسا ہو بھی سکتا ہے، یہ تو صرف اس صورت حال کے تعلق سے طلبا کو واقف کرانے کے لئے کیا گیا ہے۔‘‘

ہندوستان میں جدید قانونی تعلیم کے لئے کام کرنے والے اور کئی اہم کالجوں کے بانی این آر مادھو مینن نے کہا کہ سوال کی منشا غلط ہے۔

مینن نے کہا، ’’کسی کا مذہب بتانا تب تک غلط نہیں ہے جبکہ کوئی اصل کیس نہ ہو لیکن جس طرح سوال پوچھا گیا ہے اس میں منشا صحیح نہیں لگتی۔‘‘

واضح رہے کہ ایل ایل بی کا یہ امتحان بلند شہر تشدد کے چار دن بعد پوچھا گیا ہے، جس میں ہجوم نے مبینہ طور پر گائے کی باقیات ایک کھیت سے برآمد ہونے کی بنا پر سیانہ کے پولس انسپکٹر کو قتل کر دیا گیا تھا۔ جس پولس انسپکٹر سبودھ کو قتل کیا گیا انہوں نے 2015 میں گئو کشی کے الزام میں قتل ہوئے اخلاق کے معاملہ کی جانچ کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔