قومی

عام انتخابات 1996: ایک سِیٹ پر ’بیلٹ پیپر‘ کی جگہ ’بیلٹ بُک‘ استعمال ہوئی

اس انتخاب کے لئے کل 537 لوگوں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے جن میں سے 35 کے کاغذات کو مسترد کر دیا گیا تھا جبکہ 22 نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

جمہوریت میں انتخاب لڑنے کی آزادی کی وجہ سے آندھرا پردیش کے نلگونڈا لوک سبھا سیٹ پر ایک بار ریکارڈ 480 امیدواروں کے انتخابی میدان میں اترنے سے نہ صرف الیکشن کمیشن کے لئے نئی مصیبت پیدا کر دی تھی بلکہ اس میں بہتری کے لئے بہت سے اقدامات کرنے کے لیے مجبور کیا تھا۔

آندھرا پردیش کے نل گونڈا سیٹ پر (اب تلنگانہ) 1996 کے عام انتخابات میں 480 امیدواروں کے انتخاب لڑنے کی وجہ سے ووٹنگ کے لئے بیلٹ پیپر کی جگہ’بیلٹ بک‘ کا استعمال کرنا پڑا تھا، اس الیکشن میں ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے دھرم بھكشم نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار اندرسین ریڈی کو شکست دی تھی۔ بھكشم کو کل 282904 ووٹ اور ریڈی کو 205579 ووٹ پڑے تھے۔ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ انتخابات میں 851118 ووٹ پڑے تھے۔

اس انتخاب کے لئے کل 537 لوگوں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے جن میں سے 35 کے کاغذات کو مسترد کر دیا گیا تھا جبکہ 22 نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے تھے۔ باقی بچے 480 امیدواروں میں 60 خواتین بھی شامل تھیں۔ ان امیدواروں میں سے 306 ایس سی اور 80 ایس ٹی کے تھے، تین امیدوار قومی جماعتوں کے اور تین رجسٹرڈ پارٹیوں کے تھے. باقی آزاد امیدوار تھے، انتخاب لڑنے والے کل امیدواروں میں سے 131 کو 100 سے کم ووٹ ملے تھے جبکہ 161 امیدواروں کو 200 سے کم ووٹ ملے تھے۔ اتنا ہی نہیں 70 امیدواروں کو 300 سے کم ووٹ ڈالے گئے۔ کل 30 امیدوار ایسے تھے جو 1000 سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، اس الیکشن میں 477 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔

اس انتخاب کے بعد کئی بنیاد پر الیکشن لڑنے پر پابندی لگا نے کے بعد ضمانت کی رقم کو بڑھا دی گئی۔ اس الیکشن تک لوک سبھا انتخابات کے لئے عام امیدواروں کو 500 روپے اور درج فہرست ذات و قبائل کے امیدوار کو 250 روپے ضمانت کی رقم جمع کرنا ہوتی تھی۔ پھربعد میں جنرل زمرہ کے امیدواروں کے لئے یہ رقم بڑھا کر 25000 روپے اور درج فہرست ذات و قبائل کے امیدواروں کے لئے 12500 روپے کر دی گئی۔

سال 1996 کے انتخابات میں ہی کرناٹک کی بیلگام سیٹ پر 456 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا۔ اس الیکشن میں جنتا دل کے کے ایس ہیمپا نے بی جے پی کے بابا گوڑا پاٹل کو شکست دی تھی۔ هیمپا کو 224479 ووٹ اور پاٹل کو 153842 ووٹ ملے تھے۔ کانگریس کے کے پی باسا پربھو تیسرے مقام پر رہے تھے۔

اسی الیکشن میں قومی دارالحکومت کے مشرقی دہلی سیٹ سے 122 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا جس میں بی جے پی کے بی ایل شرما پریم منتخب ہوئے تھے جبکہ کانگریس کو دوسرا مقام ملا تھا، اس الیکشن میں 94 امیدواروں کو 100 سے کم ووٹ ملے تھے۔