جین-زی کو موہن بھاگوت سے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں: پرینکا گاندھی

کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اگر موہن بھاگوت کو جین-زی کی واقعی پروا ہے، تو انھیں ہندوستان کے وزیر داخلہ سے استعفیٰ دینے کے لیے کہنا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>پرینکا گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت گزشتہ روز ’انڈیاز انٹرنیشنل موومنٹ ٹو یونائٹ نیشنز‘ پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ اس تقریب میں انھوں نے جین-زی طبقہ کے کچھ افراد سے بات کی اور تقریباً 2000 جین-زی و جین-الفا کے اراکین کو خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے جین-زی طبقہ کے اوپر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرنے کی بات کہی تھی، جس پر کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ احاطہ میں ایک میڈیا اہلکار کے ذریعہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے جین-زی سے متعلق بیان پر سوال جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’انھیں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت جی سے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے کچھ دیگر سرکردہ لیڈران نے بھی موہن بھاگوت کے بیان پر اپنی رائے میڈیا کے سامنے رکھی۔ رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے پارلیمنٹ احاطہ میں ہی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر انھیں (موہن بھاگوت کو) ’جین-زی‘ کی واقعی پروا ہے، تو انھیں ہندوستان کے وزیر داخلہ سےا ستعفیٰ دینے کے لیے کہنا چاہیے۔ ورنہ انھیں (مرکزی وزیر داخلہ کو) کم از کم پارلیمنٹ میں آ کر طلبا سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘


وینوگوپال نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس حکومت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ موہن بھاگوت کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر انھیں سچ میں طلبا کی فکر ہے، تو انھیں طلبا پر ہوئے مظالم کی مذمت کرنی ہوگی۔ پیلیٹ گن کا استعمال کیا گیا تھا اور طلبا اس کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟‘‘ انھوں نے جین-زی سے متعلق موہن بھاگوت کے بیان کو محض دِکھاوا قرار دیا۔

کے سی وینوگوپال نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں کے ذریعہ پوچھے گئے کچھ دیگر سوالات کے جواب بھی دیے۔ جھارکھنڈ میں طلبا کے مظاہرہ سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ جہاں کہیں بھی طلبا اپنے حقیقی مسائل پر حقیقی احتجاج کر رہے ہوں گے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘‘ ایف سی آر اے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ایف سی آر اے بل کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ جب ایوان صحیح طریقے سے نہیں چل رہا تو حکومت اس طرح کا بل زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایف سی آر اے ایسا اہم بل ہے جو لاکھوں لوگوں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور اقلیتی برادریوں کو متاثر کرے گا، اسے حکومت یونہی منظور نہیں کرا سکتی۔ ہم انہیں یہ بل منظور نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔