گوری لنکیش قتل معاملہ: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پلٹا

گوری لنکیش کی بہن کویتا لنکیش نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو عدالت عظمی میں چیلنج کیا تھا جس میں نائک پر ککوکا ہٹانے کا آرڈر دیا گیا تھا اور جس سے ملزم کو کچھ راحت ملنے کی امید تھی۔

گوری لنکیش، تصویر آئی اے این ایس
گوری لنکیش، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے صحافی گوری لنکیش کے قتل معاملہ میں کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو جمعرات کو منسوخ کردیا جس سے ایک ملزم کو کچھ راحت ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ جج اے ایم خانولکر، جج دنیش ماہیشوری اور جج سی ٹی روی کمار پر مشتمل بنچ نے قتل ملزمین میں شامل موہن نائک کے خلاف کرناٹک آرگنائزڈ کرائم کنٹرول (ککوکا) کے تحت کی گئی پولیس کی قانونی کارروائی کو ہائی کورٹ کے ذریعہ منسوخ کرنے کے فیصلہ کو آج پلٹ دیا۔

عدالت عظمیٰ نے نائک کے خلاف پولیس کے ذریعہ ککوکا لگائے جانے کو مناسب ٹھہراتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہے جس میں پولیس کی اس کارروائی کو غلط ٹھہرایا گیا تھا۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے 22 اپریل 2021 کو بنگلورو پولیس کمشنر کی طرف سے ککوکا لگانے کے آرڈر کو منسوخ کر دیا تھا۔ استغاثہ فریق کی طرف سے ذیلی عدالت میں اضافی چارج شیٹ دائر کی گئی تھی، جس میں ککوکا کے تحت قانون کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔


گوری لنکیش کی بہن کویتا لنکیش نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو عدالت عظمی میں چیلنج کیا تھا جس میں نائک پر ککوکا ہٹانے کا آرڈر دیا گیا تھا اور جس سے ملزم کو کچھ راحت ملنے کی امید تھی۔ صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کو پانچ ستمبر 2017 کی رات بنگلورو کے راجہ راجیشوری نگر میں ان کے گھر کے نزدیک گولی مارکر قتل کر دیا گیا تھا۔ 14 اگست 2018 کو موہن نائک پر ککوکا کی کئی دفعات جوڑتے ہوئے عدالت میں اضافہ چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ نائک پر مجرموں کو پناہ دینے اور مدد کرنے کا الزام ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔