گربا تنازعہ: ’مودی جب اسلامی ممالک کے لیڈران کو اپنا بھائی کہتے ہیں تو ہندوستانی مسلمان ہمارے بھائی کیوں نہیں‘، سنجے راؤت

سنجے راوت نے کہا کہ ’’اگر ملک کے وزیر اعظم مودی بیرون ممالک جا کر مساجد جاتے ہیں، اسلامک اسٹیٹ کے رہنماؤں کے گلے لگتے ہیں، انہیں بھائی بتاتے ہیں، تو ہندوستان کے مسلمان ہمارے بھائی کیوں نہیں ہوئے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>سنجے راوت / آئی اے این ایس</p></div>
i

نوراتری تہوار کے موقع پر ملک بھر میں ’ماں درگا‘ کے پنڈال لگتے ہیں، لوگ خوشیوں سے جھومتے ہوئے گربا کھیلتے ہیں اور پوجا کرتے ہیں۔ ہر سال گربا تقاریب سے قبل ایک معاملہ اٹھتا ہے کہ مسلمانوں کو ان تقاریب میں داخلہ ملے گا کہ نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک ثقافتی اور پیار بانٹنے والا تہوار سیاست کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سال بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کے وزیر نتیش رانے نے ہمیشہ کی طرح یہ بیان دے دیا ہے کہ مسلمانوں کو گربا میں داخلہ نہیں دیا جانا چاہئے۔ حالانکہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی اہلیہ امریتا فڑنویس نے نتیش رانے کے خلاف بیان دیا ہے، جو موضوع بحث ہے۔

اس حوالے سے اب ادھو ٹھاکرے کی پارٹی شیوسینا یو بی ٹی سے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ سنجے راوت کا کہنا ہے کہ ’’اگر ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی بیرون ممالک جا کر مساجد کا دورہ کرتے ہیں، اسلامک اسٹیٹ کے رہنماؤں کے گلے لگتے ہیں، انہیں اپنا بھائی بتاتے ہیں، تو ہندوستان کے مسلمان ہمارے بھائی کیوں نہیں ہوئے؟‘‘ سنجے راوت نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ ’’سعودی عرب کے پرنس کو وزیر اعظم مودی بولتے ہیں نا ’مائی برادر‘؟ تو ہندوستان میں بھی ہمارے بھائی ہیں، ان بھائیوں کو خوشیوں میں کیوں روکنا چاہئے؟ سعودی عرب میں بھائی ہیں اور ہندوستان میں دشمن، یہ کیسے چلے گا؟‘‘


اس سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی اہلیہ امریتا فڑنویس نے بھی نتیش رانے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ امریتا فڑنویس نے کہا کہ ’’مسلمان اگر گربا تقاریب میں شامل ہوتے ہیں تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، کیوں کہ ہندوؤں کے تہوار سب کو ساتھ لے کر چلنے والے جشن ہوتے ہیں۔‘‘ امریتا فڑنویس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ایک اچھے معاشرے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تہوار منائے جائیں، اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی مقامات پر دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔ ہمارے جشن سے کوئی دوسرا شخص پریشان نہ ہو، اصول و ضوابط پر عمل کیا جائے، یہ ضروری ہے کہ لوگوں میں احترام کا جذبہ ہو۔‘‘ دراصل گربا تقاریب سے قبل وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ہندوؤں کے جشن میں مسلمانوں کو داخلہ نہ دیا جائے۔ وی ایچ پی کی اسی اپیل کی حمایت نتیش رانے نے کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔