گینگسٹر ابو سلیم کو سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت، قبل از وقت رہائی کی درخواست مسترد

ابو سلیم کو 1995 میں تاجر پردیپ جین کے قتل معاملے میں 2015 میں اور 1993 کے ممبئی سلسلے وار دھماکہ معاملہ میں 2017 میں ’ٹاڈا‘ کی خصوصی عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی تھی۔

ابو سلیم، تصویر آئی اے این ایس
i

سپریم کورٹ نے گینگسٹر ابو سلیم کی وہ عرضی خارج کر دی ہے جس میں اس نے 1993 کے بم دھماکہ معاملے میں رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے سپریم کورٹ کے 2022 کے فیصلے کے مطابق 25 سال کی سزا مکمل کر لی ہے۔ دراصل رواں سال اپریل میں بامبے ہائی کورٹ کے ذریعہ رہائی کی عرضی خارج کیے جانے کے بعد ابو سلیم نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ اس نے دلیل دی تھی کہ قید کے دوران حاصل ہونے والی معافی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے اپنی سزا کے 25 سال مکمل کر لیے ہیں اور اس لیے وہ رہائی کا حقدار ہے۔ حالانکہ بامبے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس کی 25 سال کی سزا 2030 میں مکمل ہوگی۔ ابو سلیم نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس نے 27 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ابو سلیم کو 1995 میں تاجر پردیپ جین کے قتل کے معاملے میں 2015 میں اور 1993 کے ممبئی سلسلے وار دھماکہ معاملہ میں 2017 میں ’ٹاڈا‘ کی خصوصی عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کہا کہ ’’عام حساب سے بھی دیکھیں تو 11 نومبر 2005 کو جیل جانے کی تاریخ سے آپ کے 25 سال پورے نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ابو سلیم کو ممبئی دھماکہ اور پردیپ جین کے قتل کے معاملے میں مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا، جب ہندوستانی حکومت نے یہ پختہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اسے 25 سال سے زیادہ کی جیل کی سزا نہیں دی جائے گی۔ جب ٹرائل کورٹ نے دونوں معاملوں میں عمرقید کی سزا سنائی تو سپریم کورٹ نے 13 جولائی 2022 کو پرتگال کو دی گئی ہندوستان کی پختہ یقین دہانی کے مطابق اس کی سزا کم کر کے 25 سال کر دی۔


سپریم کورٹ میں پہلے ہوئی کارروائی میں مرکزی حکومت نے دلیل دی تھی کہ اس کی 25 سال کی سزا 11 نومبر 2005 سے شروع ہوئی تھی اور یہ نومبر 2030 میں ختم ہوگی۔ دوسری جانب ابو سلیم نے دلیل دی ہے کہ سزا کی مدت کا حساب 18 ستمبر 2002 سے کیا جانا چاہیے جب ہندوستان کے کہنے پر انٹرپول کے ذریعہ جاری ریڈ کارنر نوٹس کے بعد اسے پرتگال میں حراست میں لیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت کی دلیل ہے کہ ابو سلیم کو پرتگال میں پاسپورٹ سے متعلق ایک جرم کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس کی حراست کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں تھا جس کے لیے اسے حوالے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ابوسلیم انڈرولڈ ڈان داؤد ابراہیم کے سنڈیکیٹ کا حصہ تھا۔ جون 2017 میں ابو سلیم کو 1993 کے ممبئی دھماکوں کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اسے سلسلے وار بم دھماکوں میں استعمال کے لیے گجرات سے ممبئی ہتھیار لے جانے کا قصوروار پایا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں 257 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔