یو پی: نابالغ دلت مزدور کی اجتماعی عصمت دری، پھر کیا گیا نذرِ آتش، 7 کے خلاف معاملہ درج

چرتھاول تھانہ حلقہ کے ایک اینٹ بھٹہ مالک اور 6 دیگر لوگوں کے خلاف کارخانے میں نابالغ دلت کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری کرنے اور اسے جلانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع کی ایک دل دَہلا دینے والی واردات میں ایک نابالغ دلت مزدور کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی گئی اور پھر اسے زندہ نذرِ آتش کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کے چرتھاول تھانہ حلقہ کے ایک اینٹ بھٹہ مالک اور 6 دیگر لوگوں کے خلاف کارخانے میں نابالغ دلت کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری کرنے اور اسے جلانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد بھیم آرمی کارکنان نے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

مہلوک نابالغ دلت مزدور لڑکی کے والد نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ وہ 22 مئی کو اپنی بیوی کو دوا دلانے کے لیے گاؤں چلا گیا تھا۔ رات میں اس کا 12 سالہ بیٹا اور 14 سالہ بیٹی بھٹے کے پاس ہی بنی جھگی میں سو رہے تھے۔ صبح 5 بجے کسی نے پولس کو لڑکی کی لاش ملنے کی خبر دی۔

لڑکی کے والد نے بتایا کہ لڑکی کے کپڑے اور اس کی چپل بھٹے کے پاس واقع ایک کھیت سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ بھٹے کے مالک، منیم اور باقی لوگوں نے ان کی بیٹی کے ساتھ گندہ کام کیا اور پھر اسے زندہ جلا دیا۔

اس پورے معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے ایس ایچ او انل کاپروال نے کہا کہ ضلع کے ایک گاؤں میں اینٹ بھٹے پر کام کرنے والی 14 سالہ لڑکی ہفتہ کے روز ہی مردہ ملی۔ اس کے بعد اس کے والدین نے کوتوالی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ انھوں نے کہا کہ کارخانہ کے مالک سمیت 7 لوگوں پر لڑکی سے عصمت دری کرنے اور اسے آگ کے حوالے کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ایس ایچ او نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ لڑکی کی موت جلنے اور دَم گھُٹنے کے سبب ہوئی تھی۔