ہم حکومت ہیں، بحریہ یا فضایہ نہیں:نتن گڈکری

مرکزی وزیر نتن گڈکری

گجرات انتخابات میں سی-پلین سے وزیر اعظم مودی نے کرتب دکھایا تھا، اس کے لئے ممبئی کے پاش علاقہ مالابار ہلز میں جیٹی بنانے کی اجازت جب بحریہ نے سیکورٹی وجوہات سے نہیں دی تو نتن گڈکری بری طرح بھڑک گئے۔

بحریہ نے سیکورٹی وجوہات سے سی-پلین کے لئے جیٹی بنانے کی اجازت دینے سے انکارکیا کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کا پارہ چڑھ گیا ہے۔ بری طرح بھڑکے گڈکری نے کہا کہ اب جنوبی ممبئی میں بحریہ کو ایک انچ زمین بھی نہیں دوں گا!

قصہ کچھ یوں ہے کہ سی-پلین کے جسن کرتب کو دکھا کر وزیر اعطم مودی نے گجرات میں ووٹروں کو مائل کرنے کی کوشش کی تھی اسے اب مودی حکومت دوسرے صوبے کے لوگوں کو بھی دکھانا چاہتی ہے۔ اس کے لئے ہوابازی کی وزارت نے ممبئی کے پاش علاقہ مالابار ہلز میں سی–پلین کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے لئے ایک جیٹی بنانے اور آنے جانے والے لوگوں کی سہولت کے لئے ایک تیرتا ہوا کیفے بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

لیکن معاملہ اس لئے تعطل کا شکار ہو گیا کیوں کہ اسی علاقہ میں بحریہ کی مشرقی کمان کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ سی-پلین کے آنے جانے سے یہاں سلامتی کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر بحریہ نے سی-پلین کے لئے جیٹی اور تیرتا ہوا ریستوراں بنانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

بس اسی بات پر ہوابازی کے وزیر نتن گڈکری کا پارا ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ انہوں نے کہاکہ اب بحریہ کو رہائش بنانے کے لئے جنوبی ممبئی میں ایک انچ بھی زمین فراہم نہیں کی جائے گی۔ گڈکری نے اتنے پر ہی بس نہیں کیا اور انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ کے تمام افسران کو عالیشان جنوبی ممبئی میں رہنے کی ضرورت کیوں آن پڑی ہے جبکہ انہیں تو پاکستان کی سرحد پر ہونا چاہئے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ سب باتیں ممبئی میں ایک تقریب کے دوران مشرقی بحریہ کمان کے سربراہ وائس ایڈمرل گریش لوتھرا کی موجودگی میں کہیں۔

گڈکری نے کہا ’’بحریہ کی ضرورت سرحدوں پر ہے جہاں سے دہشت گرد دراندازی کرتے ہیں۔ ہر شخص (بحریہ سے وابستہ) جنوبی ممبئی میں کیوں رہنا چاہتا ہے؟ وہ میرے پاس آئے تھے اور زمین کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں ایک انچ بھی زمین نہیں دوں گا۔ برائے مہربانی میرے پاس دوبارہ نہ آئیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’سبھی جنوبی ممبئی کی اہم زمین پر کوارٹر اور فلیٹ بنانے کے خواہشمند ہیں۔ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن آپ کو پاکستان کی سرحد پر جانا چاہئے اور نگرانی کرنی چاہئے۔‘‘

گڈکری نے کہا کہ کچھ اہم افسران اور سینئر افسران ممبئی میں رہ سکتے ہیں۔ سمندر کے مغربی ساحل پر ریاستی حکومت کے زیر انتظام ممبئی بندرگاہ ٹرسٹ اور مرکزی حکومت کے تعاون سے ڈیولپ کی جا رہی زمین کا استعمال مقامی شہریوں کے لئے ہی کیا جائے گا۔

جنوبی ممبئی میں بحریہ افسران کافی تعداد میں موجود ہیں اور اس علاقہ میں بحریہ کی مشرقی کمان کا صدر دفتر موجود ہے۔ جنوبی ممبئی کے کولابہ واقع نیوی نگر میں بحریہ کے رہائشی کوارٹر موجود ہیں۔ گڈکری نے کہا ’’ میں نے سنا ہے کہ آپ نے (بحریہ نے) مالابار ہلز پر تیرتے پل (فلوٹنگ جیٹی) کی تعمیر کے منصوبے پر روک لگا دی ہے جبکہ اسے ہائی کورٹ سے اجازت مل گئی ہے۔‘‘

گڈکری نے کہا ’’مالابار ہلز میں بحریہ کہاں ہے؟ مالابار ہلز میں بحریہ کہیں نہیں ہے اور بحریہ کو اس علاقہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘

مرکزی وزیر نے کہا کہ بحریہ کو مدے کا حل نکالنے کے لئے بات چیت کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ رکے ہوئے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لئے کمیٹی کے صدر ہیں اور منصوبے ایسے ہی ایجنڈے میں آتے ہیں اور انہیں منظوری مل جاتی ہے۔ گڈکری نے کہا ’’ہم حکومت ہیں۔ بحریہ اور وزارت دفاع حکومت نہیں۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول