کمزور کاروباری ماحول کے درمیان سروس سیکٹر میں مزید گراوٹ درج

ماہانہ کی بنیاد پر جاری بزنس ایکویٹی انڈیکس جون میں 33.7 ریکارڈ کیا گیا ، جس کا مطلب ہے کہ مئی کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمی جون مہینے میں کم رہی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: نئے آرڈروں میں کمی اور کمزور کاروباری ماحول کے درمیان ملک میں خدمات کے شعبہ کی سرگرمیوں میں اس سال مئی کے مقابلہ میں جون میں گراوٹ درج کی گئی اور کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کو چھنٹنی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ کے ذریعہ خدمات کے شعبے کے لئے بزنس ایکٹیویٹی انڈیکس کی ایک رپورٹ آج جاری کی گئی۔ ماہانہ کی بنیاد پر جاری انڈیکس میں جون میں 33.7 ریکارڈ کیا گیا ، جس کا مطلب ہے کہ مئی کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انڈیکس کا 50 سے نیچے گرنا پچھلے مہینے کے مقابلے میں کمی اور 50 سے اوپر رہنا اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ 50 کا نشان استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

مارچ کے مقابلہ میں اپریل میں اور اپریل کے مقابلہ میں مئی میں زبردست گراوٹ رہی تھی۔۔ اس لحاظ سے جون میں کمی مئی کے مقابلے میں کم تھی۔ انڈیکس اپریل میں 5.4 اور مئی میں 12.6 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی میں تاریخی چھنٹنی کے بعد کمپنیوں نے جون میں بھی چھنٹنی جاری رکھی ۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کام نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے چھنٹنی کی ہے۔ کچھ کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کام کرنے کیلئے ملازمین نہیں مل رہے ہیں۔

آئی ایچ ایس مارکیٹ کے ماہر معاشیات جو ہیج نے اس رپورٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا بحران کے گہرے ہونے کے ساتھ ہی سروسز شعبے جون میں مشکلات سے دوچار رہا۔ لگتا ہے کہ ملکی معیشت غیرمعمولی زوال کی طرف گامزن ہے۔ اگر کورونا وائرس کی وبا قابو میں نہیں آتی ہے تواس کیلنڈر سال کے دوسرے نصف حصے میں اس میں کمی جاری رہے گی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوڈ 19 وبا کی وجہ سے نئے آرڈرز میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور کمپنیوں کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔ سروے میں شامل 59 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ مئی کے مقابلہ میں جون میں سرگرمیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ مزید 37 فیصد لوگوں نے سرگرمیوں میں کمی کی بات کہی ، جبکہ باقی چار فیصد نے بتایا کہ ان کی سرگرمیاں مئی کے مقابلہ میں بڑھ گئیں۔ بیرون ملک سے مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بین الاقوامی سفر پر پابندیوں نے بیرون ملک سے آنے والے آرڈروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگلے ایک سال کے منظر نامے کے بارے میں تاجروں کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔

next