کشمیر میں تازہ برف باری، وادی سفید چادر میں لپٹی، کئی پروازیں منسوخ

ایڈوائزری میں ڈرائیور حضرات سے کہا گیا ہے کہ وہ برف پر گاڑیوں کو احتیاط سے چلائیں۔ خراب موسمی حالات کے پیش نظر حکام نے سری نگر ہوائی اڈے پر کئی پروازوں کو منسوخ کیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق پیر کی رات سے ہی برف باری شروع ہوگئی اور جب لوگ منگل کی صبح نیند سے اٹھے تو پوری وادی کو سفید چادر نے ڈھانپ لیا تھا۔ ادھر جہاں ایک طرف موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے ’اورینج الرٹ‘ جاری کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف سری نگر ہوائی اڈے پر کئی پراوزوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں موسم دن گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران میدانی علاقوں میں درمیانی درجے کی برف باری جبکہ بالائی علاقوں میں بھاری برف باری کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر اور جموں دونوں خطوں میں منگل کی رات اور5 جنوری یعنی بدھ کو دن بھر برف باری ہوسکتی ہے۔ متعلقہ محکمے نے ’اورینج الرٹ‘ جاری کرتے ہوئے بالائی علاقوں جہاں برفانی تودے گر آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں، کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلنے سے احتراز کریں۔


ایڈوائزری میں ڈرائیور حضرات سے کہا گیا ہے کہ وہ برف پر گاڑیوں کو احتیاط سے چلائیں۔ خراب موسمی حالات کے پیش نظر حکام نے سری نگر ہوائی اڈے پر کئی پروازوں کو منسوخ کیا ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ برف باری کے باعث روشنی میں کمی ہونے سے دلی سے سری نگر اور سری نگر سے دلی جانے والی کم سے کم 6 پروزاوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق برف باری سے سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے کئی دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں زمینی ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل متاثر ہو کر رہ گئی ہے جبکہ بجلی کا نظام بھی درہم وبر ہم ہوگیا ہے۔

بتادیں کہ متعلقہ محکمے کی طرف سے پیر کو جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دو یکے بعد دیگرے آنے والی مغربی ڈسٹربنسز جموں وکشمیر اور لداخ و ملحقہ علاقوں کو 3 جنوری کی رات سے 9 جنوری کی دوپہر تک متاثر کر سکتی ہیں اور ان مغربی ہواؤں کے زیر اثر جموں وکشمیر اور لداخ میں برف و باراں متوقع ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔