کرگل: نون کن چوٹی پر برفانی طوفان، 40 کوہ پیما ریسکیو، ایک سیاح ہلاک
پولیس اور یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے ساتھ مقامی رضاکاروں نے بھی برفانی طوفان میں پھنسے کوہ پیماؤں کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مرکزی زیر انتظام علاقے لداخ کے کرگل ضلع میں نون کن چوٹی (7135 میٹر) پر برفانی طوفان کی وجہ سے ایک کوہ پیما کی جان چلی گئی جبکہ 40 دیگر کوہ پیماؤں کو دشوار گزار ریسکیو آپریشن کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 26 اگست کی رات اچانک برفباری، تیز ہواؤں اور شدید سردی نے صورتحال کو نہایت خطرناک بنا دیا۔ اس دوران جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے کمل منڈل، جو انڈین ریلوے میں اسسٹنٹ ویجیلنس آفیسر تھے، برفانی طوفان کی لپیٹ میں آ کر جان بحق ہوگئے۔
پولیس اور یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے ساتھ مقامی رضاکاروں نے بھی برفانی طوفان میں پھنسے کوہ پیماؤں کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کئی گھنٹوں کی برفانی تگ و دو اور صفر سے نیچے درجہ حرارت میں سفر طے کرنے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے 30سے40 کوہ پیماؤں کو بحفاظت نکالا۔
پھنسے ہوئے افراد میں آسٹریلیا کے 52 سالہ کوہ پیما سیڈریک سالدانا بھی شامل تھے، جو برفانی طوفان کے دوران شدید نمونیا کا شکار ہوگئے تھے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور صحت یابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
دریں اثنا فوج کی فائر اینڈ فیوری کارپس کے مطابق اس مہم میں ہندوستان، آسٹریا، آسٹریلیا اور پولینڈ کے کوہ پیما شامل تھے، جو نون کن چوٹی کی مہم جوئی پر تھے کہ اچانک موسم بگڑ گیا اور شدید برفانی طوفان نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ترجمان نے بتایا کہ فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پھنسے کوہ پیماؤں کو فوری طور پر محفوظ مقام تک نکالا گیا اور مرحوم کوہ پیما کے جسد خاکی کو بھی احترام اور وقار کے ساتھ ایئر لفٹ کیا گیا۔بیان میں کہا گیا: ’ فائر اینڈ فیوری کارپس دکھ کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ اور ریلوے محکمے کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔‘
یاد رہے کہ اسی برفانی طوفان کے دوران کرگل پولیس، یو ٹی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور مقامی رضاکاروں نے بھی ایک مشکل ترین ریسکیو آپریشن انجام دیا، جس میں تقریباً 40 کوہ پیماؤں کو زندہ سلامت محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔