سنگھو بارڈر قتل معاملہ میں دو نہنگ اور گرفتار، اب تک چار حراست میں

سنگھو بارڈر پر ایک نوجوان کی لاش لٹکی ملی تھی اس تعلق سے اب تک چار لوگ حراست میں لئے گئے ہیں جس میں دو کو کل حراست میں لیا گیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دہلی ہریانہ کی سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں کا کئی ماہ سے نئے زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ جاری ہےلیکن دو دن پہلے وہاں پر ایک نوجوان کی ہاتھ کٹی لاش بیریکیڈ پر لٹکی ملی تھی جس کے بعد وہاں پر کافی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ نہنگ سکھو ں کے ایک گروپ نے اس قتل کی یہ کہہ کر ذمہ داری لی کہ مارے جانے والے نوجوان نے مذہبی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی تھی جس کی اسے سزا دی گئی۔ اس کے بعد ایک نہنگ سربجیت نے خود کو پولیس کے حوالہ کر دیا تھا ۔ اس کے بعد سے پولیس کا دعوی ہے کہ اس قتل معاملہ میں اب تک چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق کل رات دو نہنگ سکھوں کو سنگھو بارڈر سے حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس سے قبل ہفتہ کی شام کو ایک دیگر ملزم نرائن سنگھ کو امرتسر ضلع کے امرکوٹ سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل پولیس نے ملزم سربجیت کو گرفتار کیا تھا اور سربجیت نے خو د کو پولیس کے حوالہ کیا تھا۔سونیپت کی ایک عدالت نے سربجیت سنگھ کو سات دن کے لئے پولیس حراست میں بھیج دیا تھا ۔ ادھر نرائن سنگھ کا کہنا ہے کہ اس نے خود کو پولیس کے حوالہ کر دیا ہے۔


نرائن سنگھ نےاپنی گرفتاری سے پہلے میڈیا سے بات کی اور کہا’’ لکھبیر سنگھ کو مبینہ طور پر بے ادبی کے سزا دی گئی ۔‘‘ نرائن سنگھ کی اہلیہ پرمجیت کور نے کہا کہ انہیں اپنے شوہر پر فخر ہے کیونکہ انہوں نے گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کرنے والے ملزم کو سزا دی اور اگر کوئی اور ایسا جرم کرتا ہے تو اب وہ اسے سزا دیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔