واش روم میں 2 بار بیہوش ہوئے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ، دہلی ایمس میں کرایا گیا داخل
جگدیپ دھنکھڑ پہلے بھی کئی بار بیہوش ہو چکے ہیں، جن میں گجرات، اتراکھنڈ، کیرالہ اور دہلی کے واقعات شامل ہیں۔ ان جگہوں پر وہ نائب صدر کے طور پر عوامی پروگرام میں شامل ہونے گئے تھے۔

سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ کو گزشتہ ہفتہ 2 بار بیہوش ہونے کے بعد پیر (12 جنوری) کو دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا ایم آر آئی کیا جائے گا۔ متعلقین نے بتایا کہ 10 جنوری کو جگدیپ دھنکھڑ کو واش روم میں 2 بار بیہوشی کا دورہ پڑا۔ آج انہیں دہلی ایمس لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں جانچ کے لیے بھرتی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ جگدیپ دھنکھڑ پہلے بھی کئی بار بیہوش ہو چکے ہیں، جن میں گجرات، اتراکھنڈ، کیرالہ اور دہلی کے واقعات شامل ہیں۔ ان جگہوں پر وہ نائب صدر کے طور پر عوامی پروگرام میں شامل ہونے گئے تھے۔ انہوں نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ سال 21 جولائی کو نائب صدر کے عہدہ سے اچانک استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی کو شروع ہوا تھا۔ بطور راجیہ سبھا چیئرمین دن میں جگدیپ دھنکھڑ نے ایوان کی کارروائی چلائی تھی، اسی رات کو نائب صدر جمہوریہ کے آفیشیل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے ان کا استعفیٰ آ گیا تھا۔ اس استعفیٰ میں انہوں نے صحت کا حوالہ دیا تھا۔ ان کے اچانک استعفیٰ پر اس وقت اپوزیشن سمیت کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اس کے پیچھے صحت نہیں کچھ اور وجہ لگتی ہے۔
کچھ روز قبل خبر آئی تھی کہ جگدیپ دھنکھڑ کو استعفیٰ کے 5 ماہ بعد بھی سرکاری رہائش نہیں مل پایا تھا، کچھ قریبی لوگوں نے اس کے متعلق اطلاع دی تھی۔ گزشتہ سال 22 اگست کو ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری کو خط لکھ کر سابق نائب صدور کو ملنے والی سرکاری رہائش کی درخواست کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سابق نائب صدر کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے کئی طرح کی سہولیات ملتی ہیں۔ ان میں 2 لاکھ فی ماہ کی پنشن، ٹائپ 8 بنگلہ، ایک پرسنل سکریٹری، ایک ایڈیشنل پرسنل سکریٹری، ایک پرسنل اسسٹنٹ، ایک ڈاکٹر اور ایک نرسنگ افسر سمیت 4 ذاتی معاون شامل ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔