کولکاتہ میں وکٹوریا میموریل ہے، تو اے ایم یو میں جناح کی تصویر کیوں نہیں ہو سکتی: حامد انصاری

سابق نائب صدر نے کہا، ’’ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں میں بے چینی کا ماحول ہے ا ور اس کا حل کرنے کی ضرورت ہے۔کچھ واقعات ہوئے ہیں جن پر بیرون ملک سے رد عمل ظاہر کئے گئے، انہیں نکارا نہیں جا سکتا۔‘‘

سابق نائب صدر حمد انصاری نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر لگانے میں کچھ غلط نہیں ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے حامد انصاری نے کہا کہ اگر کولکاتہ میں وکٹوریا میموریل ہو سکتا ہے تو اے ایم یو میں جناح کی تصویر کیوں نہیں ہو سکتی؟ انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے حامد انصاری نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بے چینی کا ماحول ہے۔ سابق نائب صدر نے کہا، ’’ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں میں ڈر کا ماحول ہے ا ور اس کا حل کرنے کی ضرورت ہے۔کچھ واقعات ہوئے ہیں جن پر بیرون ملک سے رد عمل ظاہر کئے گئے، انہیں نکارا نہیں جا سکتا۔‘‘

اے ایم یو میں جناح کی تصویر سے وابستہ تنازہ پر سابق نائب صدر نے تفصیل سے اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین کہ یہ روایت رہی ہے کہ عوامی علاقہ کی ہستیوں کی عزت افزائی کریں۔ پہلی بار اس طرح کی عزت افزائی گاندھی جی کو دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’جس کی عزت افزائی کی جاتی ہے اس کی تصویر لگائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم مورار جی دیسائی، مدر ٹریزا، خان عبد الغفار خان، ان سبھی کو اعزاز بخشا جا چکا ہے اور ان کی تصاویر گیلری میں لگائی گئی ہیں۔ جناح کی بھی عزت افزائی کی گئی تھی اور ان کی تصویر وہاں لگائی گئی۔ ایک خاص نظریہ کو دینے سے بہت پہلے وہ اے ایم یو میں گئے تھے۔ اگر ان کی تصویر وہاں ہے تواس میں کیا غلط ہے! اگر وکٹوریا میموریل (کولکاتہ میں ) ہے تو جناح کی تصویر میں کیا ددقت ہے۔‘‘

حامد انصاری نے کہا کہ کولکاتہ میں وکٹوریا میموریل کیوں تعمیر کیا گیا یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’ تاریخی عمارتوں اور تصاویر کو مسخ کرنا ہماری روایت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کی کئی عمارتیں ہیں جن میں برطانوی ججوں کی تصویریں لگی ہیںَ۔ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ بامبے ہائی کورٹ کے اندر جناح کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ ‘‘

سب سے زیادہ مقبول