بڑھتے عدم برداشت اور گائے کے نام پر قتل کی ذمہ دار حکومت: حامد انصاری

سابق نائب صدر حامد انصاری کا کہنا ہے کہ سماج میں عدم برداشت بڑھ رہا ہے اور یہ بہت پہلے سے ہو رہا ہے لیکن اب جب کہ یہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے تو لوگوں کو یہ نظر آنے لگا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کے سابق نائب صدر حامد انصاری کا کہنا ہے کہ ملک میں بے پروائی عروج پر ہے اور اگر گئو رکشک وزیر اعظم نریندر مودی کی بات بھی نہیں سنتے ہیں تو یہ باعث فکر ہے۔ حامد انصاری نے اپنی نئی کتاب ’ڈیئر آئی کوسچن‘ کی رسم اجرا سے پہلے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مودی ایک مضبوط لیڈر ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کے غیر متنازع لیڈر ہیں۔ اگر ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے تو یہ سنگین امر ہے۔ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ان کی پارٹی کے ہی لوگ ان کی بات نہیں مان رہے۔‘‘

حامد انصاری کی کتاب ’ڈئیر آئی کوسچن‘ مختلف مواقع پر الگ الگ موضوعات پر کی گئی تقاریر کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’میں نے کتاب میں مختلف ایشوز پر روشنی ڈالی ہے، مثلاً ہندوستانی ہونا کیا ہے، ہندوستانی وطن پرستی کیا ہے یا ہم خود کو اکثریتی، سیکولر، جمہوری کیوں کہتے ہیں۔‘‘ سماج میں بڑھتے عدم برداشت سے متعلق سابق نائب صدر نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جب پانی کی سطح بڑھتی ہے تو آپ شروع میں اس پر غور نہیں کرتے اور یہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ سطح بہت بڑھنے کے بعد آپ کی نظر اس پر پڑتی ہے، اور آج یہی ہو رہا ہے۔‘‘

رسم اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے وجیلینٹزم (نگرانی) کے عروج پر بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ حامد انصاری نے کہا کہ ’’ہاں، وجیلینٹزم عروج پر ہے۔ اس بارے میں قومی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی لکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی اخبارات نے کہا ہے کہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ میں کوئی ٹھیک تاریخ (کہ پہلی مرتبہ اس پر کب غور کیا گیا تھا)، موقع یا جگہ نہیں بتا سکتا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کچھ ریاستوں میں گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں یا گائے کا گوشت کھانے کے نام پر اقلیتی طبقہ سے متعلق لوگوں پر غیر قانونی طریقے سے حملے کرنے اور انھیں پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے جیسے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔‘‘ حامد انصاری نے آگے کہا کہ ’’آپ دیکھیے کہ دو لوگوں کے درمیان ہمیشہ نااتفاقی ہو سکتی ہے۔ سڑک پر دو سائیکلیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور گالی گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن ایک چھوٹی سی نااتفاقی فرقہ وارانہ فساد کی شکل لے لے، اس کے لیے سوچ اور سازش تیار کرنی پڑتی ہے۔ جہاں بھی اس طرح کی سازش ہوتی ہے، سمجھیے کہ وہاں نظامِ قانون فیل ہوا ہے۔‘‘ تو کیا وہ وجیلینٹزم میں اضافہ کے لیے خاص طور سےبی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومتوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سابق نائب صدر نے کہا ’’دیکھیے، جہاں بھی ایسا ہے، میں وہاں کی حکومت کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔ چاہے یہ آسام، کیرالہ میں ہو یا پنجاب میں۔ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ میں سیاسی پارٹیوں کو نشانہ نہیں بنا رہا، میں انتظامیہ کو نشانہ بنا رہا ہوں۔‘‘

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حال ہی میں محمد علی جناح کی تصویر سے متعلق ہوئے تنازعہ پر حامد انصاری نے کہا کہ ’’جناح کی تصویر تو ہنگامہ برپا کرنے کا صرف ایک بہانہ تھا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مجھے وہاں مدعو کیا گیا تھا اور وہاں رخنہ پیدا کیا گیا۔ اس کی وجہ سے پروگرام نہیں ہو سکا۔ ضلع کے سینئر پولس افسر نے اگلے دن یہ اعتراف کیا تھا کہ بندوبست ناکام رہا اور وہ اس کی جانچ کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

موجودہ حکومت کے چار سال کی مدت کار کے دوران پاکستان کے تئیں اپنائی گئی پالیسی پر حامد انصاری نے کہا کہ ’’جہاں تک میری سمجھ ہے، پاکستان سے متعلق ہماری پالیسی ڈھلمل ہے۔ ہم پنڈولم کی طرح ایک بار اس طرف جاتے ہیں اور پھر دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ آپ اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے وقت اختیار کی گئی ہندوستان کی ’نان الائنمنٹ‘ کی روایتی پالیسی بالکل درست تھی اور اس پالیسی سے دنیا میں ملک کو عزت بھی ملی تھی، لیکن حالیہ سالوں میں پڑوسیوں سے متعلق ہندوستان کی پالیسی بری حالت میں ہے۔‘‘

next