بنگال چیف سکریٹری معاملہ پر مودی حکومت کا فیصلہ ’بیوقوفانہ‘: سابق آئی اے ایس افسران

سابق آئی اے ایس افسران نے الاپن بندوپادھیائے سے متعلق مودی حکومت کے فیصلے کو حیرت انگیز، پریشان کن اور شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا۔

الاپن بندوپادھیائے، تصویر یو این آئی
الاپن بندوپادھیائے، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکز کی مودی حکومت اور مغربی بنگال کی ممتا حکومت کے درمیان رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ بنگال انتخابات کے بعد حالات میں بہتری دیکھنے کو ملے گی اور مرکز و ریاست دونوں مل کر کام کریں گے، لیکن ایسا دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ اب تو کشیدگی مزید بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ پہلے سی بی آئی کے ذریعہ ممتا کے وزراء کی گرفتاری ہوئی اور اب ان کے چیف سکریٹری الاپن بندوپادھیائے کو لے کر کشیدگی عروج پر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پی ایم مودی کے ساتھ میٹنگ میں موجود نہ رہنے کے سبب مغربی بنگال کے سابق چیف سکریٹری الاپن کو مرکزی حکومت کے ذریعہ پہلے دہلی طلب کیا گیا اور پھر دہلی نہیں جانے پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا گیا۔ مودی حکومت کے اس فیصلے کو سابق کابینہ سکریٹری اور سابق سکریٹری سمیت کئی بڑے نوکرشاہوں نے غلط ٹھہرایا ہے۔ سابق آئی اے ایس افسروں نے مودی حکومت کے فیصلے کو حیرت انگیز، پریشان کن اور شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والا ٹھہرایا ہے۔


سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی، سابق کابینہ سکریٹری بی کے چترویدی اور ڈی او پی ٹی (سول سروس کے افسران کے کام کا بنٹوارا کرنے والی وزارت) کے سابق سکریٹری ستیانند مشرا نے انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے بات چیت میں تینوں سینئر افسران سے کہا کہ یہ افسران کے لیے اچھی مثال نہیں ہے اور اس سے سول سروسز کے افسران کو مایوسی ہوگی۔

انگریزی روزنامہ سے بات چیت میں سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب ایک سکریٹری سطح کے افسر کو سبکدوشی سے ایک دن پہلے مرکز میں تعینات کرنے کا حکم دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ اتنے سینئر افسر کو 10 بجے سے پہلے دہلی رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہو، یہ حیرت انگیز فیصلہ تھا۔ عام طور پر سول سروس کے افسران کو کسی دوسری جگہ پر ذمہ داری سنبھالنے کے لیے کم از کم چھ دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ جی کے پلئی نے ڈی او پی ٹی کے ذریعہ دہلی تبادلے کے فیصلے پر بھی حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کیریر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ میٹنگ میں غیر حاضر رہنے کی وجہ سے نوٹس جاری کیا گیا ہو۔


سابق کابینہ سکریٹری بی کے چترویدی نے بھی مرکزی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ بی کے چترویدی نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ ایسے فیصلوں سے سول سروسز کے افسران میں عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے پی ایم مودی کے صلاح کاروں نے انھیں غلط صلاح دے دی۔ چترویدی نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی درخواست پر حکومت ہند نے الاپن بندوپادھیائے کی خدمات کو تین مہینوں کے لیے بڑھا دیا تھا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مغربی بنگال میں ان کا بنے رہنا اہم تھا۔ لیکن الاپن کے رویہ سے افسردہ ہو کر اس طرح کا نوٹس جاری کرنا مناسب نہیں ہے۔

ڈی او پی ٹی کے سابق سکریٹری ستیانند مشرا نے بھی مرکزی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سول سروسز سے متعلق سوچ اہم طور پر ریاستوں میں سروس کرنے کے لیے تھی۔ ستیانند مشرا نے بتایا کہ سول سروس کے افسران جو مرکز میں آنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، وہی مرکز میں آ کر کام کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی افسر سے ناراض ہو کر اسے مرکز میں بلایا جاتا ہے تو اس حالت میں افسر کیسے کام کر پائیں گے۔


ستیانند مشرا نے کہا کہ حکومت چاہتی کیا تھی یہ سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ الاپن کو بغیر کسی پوسٹنگ کے مرکز میں بلا لیا گیا تھا۔ انھیں تین مہینے کی خدمات میں توسیع دی گئی تھی، اس ناطے انھیں ریاست میں ہی رہنا تھا، لیکن اس کے باوجود انھیں مرکز میں بلانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ صرف میٹنگ میں نہ شامل ہونے کے سبب ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کر دیا گیا، جب کہ میٹنگ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت نہیں بلائی گئی تھی۔ یہ بہت ہی بے وقوفانہ قدم تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔