سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم گرفتار

نیب کے ذرائع نے بتایا کہ مریم کو چودھری شوگر مل (سی ایس ایم) معاملے میں نیب کے سامنے پیش ہونا تھا لیکن وہ یہاں پیش ہونے کی بجائے جیل میں اپنے والد شریف سے ملنے چلی گئیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو چودھری شوگر مل معاملے میں جمعرات کے روز گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پاکستان کے نیوز چینل ڈان نیوز نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے خبر دی ہے۔

نیب کے ذرائع نے بتایا کہ مریم کو چودھری شوگر مل (سی ایس ایم) معاملے میں نیب کے سامنے پیش ہونا تھا لیکن وہ یہاں پیش ہونے کی بجائے جیل میں اپنے والد شریف سے ملنے چلی گئیں۔

نیب کے ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مریم کو گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے وائس چیئرمین مریم کو تحویل میں لے کر نیب ہیڈ کوارٹر لایا گیا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان کے مطابق مریم کو جمعہ کی صبح احتساب عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شریف کا بھتیجا یوسف عباس بھی کل احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔ نیب ذرائع کے مطابق، مریم کے بعد عباس کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ مریم کو تحویل میں لینے کے سلسلےمیں مریم اورنگزیب اور احسان اقبال سمیت مسلم لیگ (ن) پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے قومی اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے بھی مریم کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور اس کی مذمت کی۔

مریم کی گرفتاری سے متعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی۔ واضح رہے کہ مریم کو نیب کے سامنے 31 جولائی کو سی ایس ایم معاملے میں پیش ہونا تھا۔ ان کا بیان سی ایس ایم میں مشتبہ کاروباری لین دین کے بارے میں درج کیا جانا تھا۔ مریم سی ایس ایم کی ایک بڑی شیئر ہولڈر ہیں۔

نیب ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جنوری 2018 میں مسلم لیگ (ن) حکومت کے معاشی نگرانی کے شعبے نے نیب کے سامنے منی لانڈرنگ قانون کے تحت سی ایس ایم میں کروڑوں روپے کے لین دین کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے اکتوبر 2018 میں اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں پایا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور عباس شریف کے اہل خانہ اس کمپنی کے شیئر ہولڈر ہیں۔ ان کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے بھی کچھ لوگ اس میں شامل ہیں۔