سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قومی مفاد میں لئے گئے اہم فیصلے، سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیشکش

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی معاشی اصلاحات کے لیے ہمیشہ تعریف کی جاتی ہے، یہ اصلاحات سروسز سیکٹر کی توسیع کا باعث بنی اور ملک کو کافی حد تک لبرل سرمایہ کاری اور تجارتی انتظامات سے مدد ملی

ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ملک میں معاشی اصلاحات کے معمار قرار دئے جانے والے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ آج اپنی 89 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ منموہن سنگھ 26 ستمبر 1932 کو غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے چکوال ضلع میں واقع گاؤں گاہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 90 کی دہائی میں زبرست معاشی اصلاحات انجام دے کر ملک کو بحران سے نجات دلائی تھی۔ مشہور ماہر معاشیات منموہن سنگھ کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور 10 سال تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

ملک کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی معاشی اصلاحات کے لیے ہمیشہ تعریف کی جاتی ہے۔ 1991 میں شروع ہونے والی معاشی اصلاحات سروسز سیکٹر کی توسیع کا باعث بنی، جس میں کافی حد تک لبرل سرمایہ کاری اور تجارتی انتظامات سے مدد ملی۔ تاہم، ہندوستان کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں منموہن سنگھ کو ان کی پرسکون طبیعت کی وجہ سے اپوزیشن کی طرف سے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن کئی ان کی معاشی اصلاحات کے لیے ماہرین معاشیات اور کئی لیڈران نے ان کی تعریف کی۔ منموہن سنگھ ملک کے وزیر اعظم بننے سے پہلے 13 سال تک ملک کے وزیر خزانہ بھی رہے۔


سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سابق وزیر خزانہ اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے ساتھ اس دور کی صدارت کی جب ہندوستانی معیشت 8-9 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ ترقی کر رہی تھی۔ 2007 میں ہندوستان نے جی ڈی پی کی سب سے زیادہ شرح نمو 9 فیصد حاصل کی اور اس دوران ہندوستان دنیا کی دوسری تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت بن گیا۔ منموہن سنگھ کی حکومت نے بینکنگ اور مالیاتی شعبوں میں اصلاحات پر بھی کام کیا۔ یہ منموہن سنگھ کی حکومت کا دور تھا جب وزارت خزانہ نے کسانوں کو ان کے قرضوں سے آزاد کرنے اور صنعت نواز پالیسیوں پر کام کیا۔ 2005 میں منموہن سنگھ کی حکومت نے پیچیدہ سیلز ٹیکس کے بجائے وی اے ٹی (ویٹ) متعارف کرایا۔

اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈ) ایکٹ 2005 وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورط حکومت میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کو 10 فروری 2006 کو اسپیشل اکنامک زونز رولز 2006 کے ساتھ نافذ العمل قرار دیا گیا۔ یہ قانون ملک کی معاشی ترقی کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو کر سامان اور خدمات کی برآمد کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ کیا جا سکے۔ قانون کے مقاصد خصوصی اقتصادی زونز اور اس کی اکائیوں کے قیام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنے میں مدد کرنا تھے، تاکہ سامان اور خدمات کو فروغ دے کر اور غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے اضافی معاشی سرگرمی پیدا کی جا سکے۔


حکومت ہند نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں 2005 میں قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (نریگا) متعارف کرایا۔ یہ ایک سماجی تحفظ کی اسکیم ہے جس کا مقصد ہندوستان میں دیہی برادریوں اور مزدوروں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ نریگا کی اسکیم دیہی گھرانوں کو سال میں کم از کم 100 دن کی مقررہ اجرت پر ملازمت فراہم کر کے آمدنی کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔

ہند امریکہ جوہری معاہدہ

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران ہندوستان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہند - امریکہ ایٹمی معاہدے یا انڈیا سول نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کرنا تھی۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے کا فریم ورک منموہن سنگھ اور اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے مشترکہ بیان میں تیار کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت ہندوستان نے اپنی سول اور فوجی جوہری تنصیبات کو الگ کرنے اور تمام سویلین جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تحت رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔