سابق صدر پرنب مکھرجی نے لوک سبھا میں اراکین کی تعداد 1000 کرنے کا دیا مشورہ

پرنب مکھرجی نے کہا کہ لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 1000 کر دینی چاہیے اور اسی طرح تناسب کو دیکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں بھی اراکین کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اراکین کی تعداد کے تعلق سے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے ان ایوانوں میں اراکین کی تعداد بڑھائے جانے کی وکالت کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی اب ایک رکن پارلیمنٹ پہلے کے مقابلے زیادہ لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اس لیے انھیں ذمہ داریوں کو نبھانے میں کافی مشکلیں پیش آتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 2019 کے انتخاب کو بنیاد مانیں تو آج ہر رکن پارلیمنٹ اوسطاً 16 لاکھ ووٹروں کی نمائندگی کر رہا ہے۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 1000 کر دینی چاہیے اور اسی طرح تناسب کو دیکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں بھی اراکین کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی زیادہ سے زیادہ منظور تعداد 552 ہے جب کہ راجیہ سبھا میں یہ تعداد 250 ہے۔ سابق صدر جمہوریہ نے ڈی لمیٹیشن کمیشن (حد بندی کمیشن) بنا کر جلد سے جلد سیٹوں کی تعداد بڑھانے کا عمل شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔


دونوں ایوانوں میں اراکین کی تعداد بڑھائے جانے کی صورت میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر وہ بیٹھیں گے کہاں۔ اس سلسلے میں پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سنٹرل ہال کو لوک سبھا بنایا جا سکتا ہے جب کہ موجودہ لوک سبھا کو راجیہ سبھا کے طور پر بدلا جا سکتا ہے۔ اسی طرح راجیہ سبھا کو یا تو لابی یا پھر سنٹرل ہال بنایا جا سکتا ہے۔ ویسے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مودی حکومت نے ایک نئے پارلیمنٹ ہاؤس تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2022 میں بن کر تیار ہو جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 2026 تک نہیں بڑھائی جا سکتی کیونکہ اس پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1952 میں ہوئے پہلے عام انتخاب میں کل 489 سیٹوں کے لیے انتخاب ہوئے تھے جو بڑھتے بڑھتے 1977 میں 552 تک پہنچ گئی۔ اس وقت سیٹوں کی تعداد 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر طے کی گئی تھی۔ بعد میں 2002 میں سیٹوں کی تعداد 2026 تک نہیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 1976 میں سیٹوں کی تعداد اوپری حد 552 طے کرنے کے پیچھے منشا تھی کہ آبادی کنٹرول کو فروغ دیا جا سکے۔ کئی ریاست سیٹوں کی تعداد آبادی کی بنیاد پر بڑھانے کی مخالفت اس بنیاد پر کرتے رہے ہیں کہ یو پی اور بہار جیسی ریاستوں میں لوک سبھا کی سیٹوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان ریاستوں میں آبادی زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ ظاہر ہے کہ سیٹوں کی تعداد بڑھنے سے ان ریاستوں کے سیاسی رتبے میں بھی اضافہ ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔