الیکشن کی سرکاری فنڈنگ پر غوروخوض کی ضرورت: منموہن سنگھ

منموہن سنگھ نے پارلیمانی جمہوریت کے فروغ میں اندرجیت گپتا کمیٹی کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ بھی اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے انتخابات کے لیے سرکاری فنڈنگ کی سفارش کی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھارتیہ جنتاپارٹی کانام لیے بغیر کہا کہ جب انتخابات میں ایک ہی پارٹی کو 90 فیصد سے زیادہ الیکشن فنڈ مل رہا ہے تو حکومت کے ذریعہ الیکشن کی فنڈنگ پر غور ہونا چاہیے تاکہ جمہوریت کو بچایا جاسکے۔

ڈاکٹرسنگھ نے گزشتہ روز اتوار کو یہاں آنجہانی بائیں بازو کے لیڈر اور سابق وزیر داخلہ اندرجیت گپتا کے صد سالہ یوم پیدائش پر منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ تقریب کے مہمان خصوصی مغربی بنگال کے سابق گورنر اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پوتے گوپال گاندھی تھے۔ تقریب سے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور ہندستان کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے خطاب کیا۔ صدارت کمیونسٹ پارٹی کے رخصت پزیر جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی نے کی۔

منموہن سنگھ نے پارلیمانی جمہوریت کے فروغ میں اندر جیت گپتا کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے بارے میں اندرجیت گپتا کمیٹی کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ بھی اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے انتخابات کے لیے سرکاری فنڈنگ کی سفارش کی تھی۔ آج جب ایک ہی پارٹی کو 90 فیصد سے زیادہ انتخابی فنڈ مل رہا ہے تو اس کمیٹی کی سفارش پر غورہونا چاہیے۔

انھوں نے کہاکہ اندرجیت گپتا کمیاب شخصیت والے لیڈر تھے اور اپنے مخالفین کی بات سنتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت کی روح نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے انھوں نے بتایا کہ ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اس تقریب میں آنا چاہتی تھیں لیکن ناگزیر مصروفیت کی وجہ سے نہیں آسکیں۔ سونیا گاندھی نے اندرجیت گپتا کے صدسالہ یوم پیدائش پر اپنا پیغام بھیجا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے سونیا گاندھی کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انھوں نے اندرجیت گپتا کے تعاون کو نمایاں کیا اور ان کی شخصیت کو سراہا۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری یچوری نے اندرجیت گپتا کو اصول پسند لیڈر بتاتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ کی حیثیت سے انھوں نے کبھی کسی کی حکومت گرانے میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اندرجیت گپتا کمیٹی کی سفارش کا ذکر کیا۔

انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کی مدت کار میں دلیل کی جگہ عقیدت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور حکومت کی تنقید کرنے پر غدار اور نکسلی بتایا جا رہا ہے جس کے خلاف لڑنے کی زیادہ ضرورت ہے اور یہی اندرجیت گپتا کے تئیں سچا خراج عقیدت ہوگا۔

گوپال کرشن گاندھی نے اندرجیت گپتا کو حقیقی سماج وادی قرار دیتے ہوئے انھیں ایک مہذب شخصیت بتایا۔ انھوں نے کہا کہ آج پورے ملک میں خانہ بدوشوں، قبائلیوں اور جن لوگوں کے نام قومی شہری رجسٹر میں نہیں ہیں، انھیں ملک کی شہریت سے محروم کیا جا رہا ہے۔