ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کرائم برانچ کے سامنے پیش، اکتوبر سے لاپتہ تھے

ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے دو روز قبل ہی پرمبیر سنگھ کے ممبئی میں واقع دونوں گھروں کے دروازوں پر اشتہاری مجرم کا نوٹس چسپاں کیا تھا، نوٹس کے ذریعے انہیں 30 دن کے اندر حاضر ہونے کو کہا گیا تھا

پرمبیر سنگھ
پرمبیر سنگھ
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ ممبئی میں کاندیوالی کرائم برانچ کے دفتر میں حاضر ہو گئے ہیں۔ پرمبیر سنگھ اکتوبر سے مفرور تھے اور عدالت کی جانب سے ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ پرمبیر آج کرائم برانچ کے دفتر پہنچے اور تحقیقات کا سامنا کیا۔

دو دن پہلے ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے پرمبیر سنگھ کے دونوں گھروں کے دروازوں پر اشتہاری مجرم کے نوٹس چسپاں کر دیئے تھے۔ منگل کو چسپاں کیے گئے اس نوٹس میں پرمبیر سنگھ کو 30 دنوں کے اندر تفتیشی ایجنسی یا عدالت میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔


اس سے قبل پرمبیر سنگھ کے وکیل نے سابق پولیس کمشنر کے ملک چھوڑنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ ملک میں ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے، اس لیے وہ روپوش ہیں۔ پرمبیر سنگھ کے وکیل نے 48 گھنٹے کے اندر تفتیش میں شامل ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فی الحال پرمبیر سنگھ کی درخواست پر ان کی گرفتاری پر روک لگائی ہوئی ہے۔

پرمبیر سنگھ کے خلاف جبری وصولی کرنے کے الزامات ہیں۔ 22 جولائی کو ممبئی کے میرین ڈرائیو پولیس اسٹیشن نے پرمبیر سنگھ و پانچ دیگر پولیس اہلکاروں اور دو دیگر کے خلاف ایک بلڈر سے مبینہ طور پر 15 کروڑ روپے کا مطالبہ کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے ایک دوسرے کے ساتھ ملی بھگت سے شکایت کنندہ کے ہوٹل اور بار کے خلاف کارروائی کا خوف ظاہر کرتے ہوئے 11.92 لاکھ روپے ہڑپ لئے۔


پرمبیر سنگھ نے مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر بدعنوانی اور جبری وصولی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد جہاں دیشمکھ کی کرسی چلی گئی اور وہ تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں پرمبیر سنگھ کے خلاف بھی جبری وصولی کا مقدمہ درج ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔