انل امبانی گروپ کے سابق ایم ڈی ستیش سیٹھ ای ڈی کی تحویل میں، منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کا فیصلہ
جانچ ایجنسی ’ای ڈی‘ کے مطابق ستیش سیٹھ پر حوالہ چینلز کے ذریعے بیرون ملک اوور ریٹڈ ہیروں کی درآمد کے نام پر جعلی بل تیار کرکے فنڈز چوری کر نے کا الزام ہے۔

دہلی کی دوارکا کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں ریلائنس انل امبانی گروپ (آر اے اے جی) کے سابق گروپ منیجنگ ڈائریکٹر ستیش سیٹھ کو منی لانڈرنگ معاملے میں 6 دن کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی حراست میں بھیج دیا ہے۔ تعطیلی جج وندنا جین (اے ایس جے-3، ساؤتھ ویسٹ) کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم سے پیسے کہاں گئے اور پورے فنڈ ٹریل کا پتہ لگانے کے لیے تحویل میں پوچھ گچھ بہت ضروری ہے۔ ای ڈی نے 13 دن کی تحویل کا مطالبہ کیا تھا جسے عدالت نے 6 دن کے لیے منظور کیا۔
ای ڈی کے مطابق ستیش سیٹھ پرحوالہ چینلز کے ذریعے بیرون ملک اوور ریٹڈ ہیروں کی درآمد کے نام پر جعلی بل تیار کرکے فنڈز چوری کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں ای سی آئی آر نمبر ای سی آئی آر/ ایس ٹی ایف/ 08/2026درج کیا گیا ہے جو پی ایم ایل اے 2002 کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت ہے۔
یہ مقدمہ ممبئی کے ڈی بی مارگ پولیس اسٹیشن درج ایف آئی آر نمبر 2026/ 172 (11 فروری 2026) سے متعلق ہے۔ ایف آئی آر میں تعزیرات ہند کی دفعہ 409، 465، 467، 468، 471 اور 120 بی عائد کی گئی ہے۔ تحقیقات میں گیت ایکزم پرائیویٹ لمیٹیڈ، ویبھا امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ، پہل امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ جیسی کمپنیوں کے ذریعے ہیرے کی درآمد میں زیادہ قیمت دکھا کر فرضی بل بنائے گئے اور حوالہ کے ذریعہ پیسے بیرون ملک منتقل کئے گئے۔
ستیش سیٹھ کو 13 جون 2026 کی رات 8 بجے ٹرانزٹ ریمانڈ پر دہلی لایا گیا تھا۔ ای ڈی کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وکرم اہلاوت، ای او دنیش یادو سمیت کئی افسر موجود تھے۔ ملزم کے بیٹے ہرش سیٹھ اور نین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ستیش سیٹھ کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ ای ڈی کی طرف سے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر سائمن بینجمن اور دیگر وکلاء نے دلائ پیش کئے اور کہا کہ پوچھ گچھ کے بغیر فنڈ کا پورا ٹریل نہیں پتہ لگایا جاسکتا۔ ملزم کے وکلاء نے اس کی مخالفت کی لیکن عدالت نے ای ڈی کے مطالبے کو جزوی طور پر منظور کر لیا۔
ستیش سیٹھ ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ کے سابق ڈائریکٹر اور گروپ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ یہ معاملہ ریلائنس انل امبانی گروپ کی کمپنیوں سے وابستہ بڑی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حصہ مانا جارہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
