32 ججوں کو نظر انداز کر سپریم کورٹ کے 2 ججوں کی تقرری! سابق جج نے صدر کو لکھا خط

جسٹس دنیش ماہیشوری اور سنجیو کھنہ کو سپریم کورٹ میں لانے کی سفارش پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، سپریم کورٹ کالجیم کی طرف سے ہوئی سفارش کے خلاف ریٹائرڈ جج کیلاش گھمبیر نے صدر کووند کے نام خط لکھا ہے۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ

قومی آوازبیورو

جسٹس دنیش ماہیشوری اور سنجیو کھنہ کو سپریم کورٹ میں لائے جانے کی سفارش پر تنازعہ عروج پر ہے۔ سپریم کورٹ کالجیم کی طرف سے کی گئی سفارش کے خلاف ریٹائرڈ جج کیلاش گھمبیر نے صدر رام ناتھ کووند کے نام خط لکھا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج کیلاش گھمبیر نے جسٹس دنیش ماہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کو سپریم کو رٹ کا جج بنائے جانے کے خلاف صدر رام ناتھ کووند کو خط لکھا ہے۔ صدر جمہوری کو پیر کے روز لکھے گئے خط میں کیلاش گھمبیر نے کہا کہ دنوں ججوں کو عدالت عظمی میں بھیجنے کی سفارش تقریباً 32 ججوں کو نظر انداز کر کے کی گئی ہے جو کہ خوفناک اور حیران کن ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والے سپریم کورٹ کے کالجیم نے 10 جنوری کو کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دنیش ماہیشوری اور دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو کھنہ کو سپریم کورٹ بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی۔

کیلاش گھمبیر نے اپنے خط میں کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے کئی ججوں کو نظر انداز کر کے 2 ججوں کو سپریم کورٹ بھیجنے کی کالجیم کی خبر پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایمانداری سے کہوں تو اس خبر نے پورے قانون اور انصاف کی دنیا کی تمام روایات کو توڑ دیا ہے۔ 32 ججوں کو نظر انداز کرنے والا یہ خوفناک اور حیرن کن فیصلہ ہے، ان میں سے کئی تو چیف جسٹس بھی ہیں۔ ‘‘

کیلاش گھمبیر نے کہا کہ 32 ججوں کو نظر انداز کر دینا ایک تاریخی بھول ہوگی۔ صدرجمہوریہ کو لکھے خط میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور اعتماد کا تحفظ کیجیے اور اس تاریخی بھول کو انجام تک پہنچے سے روکیے۔ صدر جمہوریہ سے اس معاملہ پر گزارش کرتے ہوئے گھمبیر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی اس طرح سے کیسے بچ پائے گی!۔

انہوں نے مزید لکھا ’’میں نے اس زندہ جاوید عدلیہ کا ایک رکن ہونے کے ناطے آپ کو خط لکھا ہے۔ عدلیہ ہر بار اپنے اعتماد کے امتحان میں کھری اتری ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس مرتبہ یہ بچ نہیں پائے گی۔‘‘