’مجاہد آزادی شیخ بھکاری کی یادگار پر حکومت توجہ دے‘، چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی وزیر انصاری کی اپیل

محمد وزیر انصاری نے کہا کہ شہید شیخ بخاری کے نام سے منسوب جو روڈ ہے اس کی مرمت کی جائے اور ان کے نام سے یونیورسٹی، اسٹیڈیم، آرمی/پولیس ریکروٹمنٹ سینٹر قائم کیا جائے۔

مجاہد آزادی شیخ بھکاری کی یادگار، تصویر یو این آئی
مجاہد آزادی شیخ بھکاری کی یادگار، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان کے آزاد ہونے کے 75سال کے موقع پر حکومت امرت مہوتسو منا رہی ہے جب کہ ملک کی آزادی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے مجاہدین آزادی کا کوئی نام لیوا نہیں ہے اور ان کی یادگاریں آج قابل رحم حالت میں ہے ان میں مجاہد آزادی شیخ بھکاری بھی ہیں۔ یہ بات چھتیس گڑھ کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس اور سماجی کارکن وزیر احمد انصاری نے کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اَمر شہید شیخ بخاری کے نام سے منسوب جو روڈ ہے اس کی مرمت کی جائے اور ان کے نام سے چوک۔چوراہوں کا نام رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے نام سے یونیورسٹی، اسٹیڈیم، آرمی /پولیس ریکروٹمنٹ سینٹر’ بنایا جائے۔ حکومت نے ان کے گاؤں کو مارڈن گاؤں بنانے کی بات کہی تھی، ان کے گاؤں کو مارڈن گاؤں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ بخاری کا مقبرہ خستہ حالی کا شکار ہے۔ مقبرہ کے اوپری حصہ یعنی چھت میں جو سریہ ”لوہے“ لگے ہیں وہ باہر سے نظر آرہے ہیں۔ مقبرہ کے چاروں اطراف میں بنے کھمبے بھی گل گئے ہیں اور مقبرہ کے چاروں طرف جنگل ہیں کہ یہاں جانے کی کسی کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔ اس کی صاف صفائی اور مرمت کی سخت ضرورت ہے۔ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ جھارکھنڈ کے اتنے بڑے مجاہد آزادی جو اَمر شہید شیخ بخاری ”بھکاری“ کے نام سے جانے جاتے ہیں، ان کے مقبرہ کی حالت دیکھ کر رنج ہوتا ہے۔ سرکار سے گزارش ہے کہ اس کی صاف صفائی اور مرمت کا کام کیا جائے۔


وزیر انصاری نے کہا کہ ان کے نام سے منسوب مرکز المدارس کو صحیح گرانٹ دے کر اس کو ٹھیک کیا جائے اور جو شیخ بخاری گیٹ ہے اس کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ کبھی بھی گر پڑے، ایسا نہ ہو کہ کبھی کوئی حادثے سے دوچار ہو جائے کیونکہ یہاں سے کثیر تعداد میں لوگوں کی آمد ورفت ہے، جلد سے جلد اس کی مرمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کمیونٹی کے لوگ بھی بے حسی کے شکار ہیں ان کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم ان کے بارے میں لوگوں کو بتائیں گے نہیں، ان کے بارے میں کتابیں نہیں لکھیں گے، ان کے بارے میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھائیں گے، اور دیگر طبقے سے امید رکھیں گے یہ کیسے ممکن ہے۔ ہمیں اپنے آباء واجداد کے بارے میں آنے والی نسلوں کو پڑھانا ہے۔ کیوں کہ یہ قول مشہور ہے کہ وہ قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنے آباء واجداد کی تاریخ کو نہیں جانیں گے۔ ہم اپنے آباء واجداد کی تاریخ سے کئی باتیں سمجھ سکتے ہیں، لیکن آج ہم تمام لوگوں کو خود سے محاسبہ کرنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ سرکار سے ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ بخاری، ٹکیت امراؤ سنگھ، ٹھاکر وشوناتھ شاہی، پانڈے گنپت رائے، جے منگل پانڈے، نادر علی خان، برج بھوشن سنگھ چماسنگھ، شیوسنگھ، رام لال سنگھ اوربرج رام سنگھ کے نام سے جھارکھنڈ میں اسکول، کالج، میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں کے کمروں کے نام رکھے جائیں۔


مادر وطن بھارت کی عظمت کی خاطر اپنے آپ کو قربان کرنے والوں میں چھوٹا ناگپور کے بہادروں کا نمایاں تعاون رہا ہے۔ اس دھرتی کی کوکھ نے اَمرشہید شیخ بخاری عرف شیخ بھکاری کو 2 اکتوبر 1811 جنم دیا۔ جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے کے لئے انگریزوں کے بہت سے وحشیانہ تشدد کو سہا اور ہنستے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا، لیکن آج شیخ بخاری جیسے لازوال مجاہد آزادی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں اور وہ فراموشی کے شکار ہوگئے ہیں۔

غورطلب ہے کہ ہر سال جھارکھنڈ کے چاٹو پالو گھاٹی پر جہاں شیخ بخاری اور ٹکیت امراؤ سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی، اسی برگد کے پیڑ کے پاس ایک بڑے پیمانے پر میلہ لگتا ہے اور تمام سیاسی لیڈران یہاں پہنچ کر ان شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ جو اس سال بھی 8جنوری کو انعقاد کیا جا رہا ہے۔ لیکن سرکار سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس برگد کے پیڑ کے پاس جہاں سال میں ایک بار صفائی کا اہتمام کرتے ہیں، اس کو ایک ٹورسٹ پیلیس بنایا جائے۔ جس سے یہاں ہمیشہ صاف صفائی ہوتی رہے اور ان شہداء کو لوگ جانیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔