مودی حکومت اب بیمہ کمپنیوں پر غیر ملکیوں کے قبضے کے لئے لائی ترمیم :کانگریس

بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنا چاہئے کیونکہ اس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستانی کمپنیوں پر قبضہ کرنے کا اختیار دینے جیسی بہت سی خامیاں ہیں۔

علامتی تصویر یو این آئی
علامتی تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کانگریس نے بیمہ ترمیمی بل کو ملک کی کمپنیوں کےلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں غیر ملکیوں کو ہندوستانی کمپنیوں پر اختیار حاصل کرنے کا التزام کیا گیا ہے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت انشورینس کمپنیوں کے سلسلے میں جو بل لائی ہے ، اس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستانی کمپنیوں پر قبضہ کرنے کا اختیار دینے جیسی بہت سی خامیاں ہیں ،اس لئے حکومت کو اس بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنا چاہئے۔

انہوں نے کہا،’’اس قانون کے تحت کمپنیوں کو جو بھی پیسہ ملے گا،جو ایف ڈی آئی ،جو انوسیٹ کریں گے،اس پر آہستہ آہستہ فارن کمپنیوں کو اونرشپ دینے اور اس کوکنٹرول کرنے کا بھی التزام کیا گیا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں جو کنٹرول کریں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری جو پیسہ لگانے کی کوشش کریں گے،وہ ہمارے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی صورت حال پیدا کریں گے۔‘‘


انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ یہ بل کس مقصد سے لائی ہے۔یہ حکومت نجکاری پر بہت زور دے رہی ہے اور ان کا بھروسہ نجی شعبہ پر ہی ہے ،اس لئے ہم یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے کہ ایسے قدم اٹھاکر اس کا مقصد کیا کرنے کا ہے۔ حکومت بتائے کہ وہ ہندوستانی کمپنیوں کو غیر ملکی ہاتھوں میں کیوں سونپنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ ’بیمہ ترمیم بل-2021‘‘ کو راجیہ سبھا میں پاس کراتے وقت کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر کئی پارٹیوں نے کل اس کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے بائیکاٹ کردیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔