پٹرول-ڈیزل پر خصوصی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی پر پون کھیڑا کا ردعمل، ’سرخی بنانے کے بجائے حقیقی راحت دی جائے‘

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے پٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کو محض بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتیں بدستور برقرار ہیں اور حکومت کو حقیقی راحت دینے پر توجہ دینی چاہیے

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے سینئر ترجمان پون کھیڑا نے پٹرول اور ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے حکومتی فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے کو راحت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں صارفین اور ڈیلروں کے لیے قیمتیں جوں کی توں برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے یہ سرخیاں دیکھ کر یہ سمجھا کہ ایندھن کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں اور حکومت نے عوام کو راحت دی ہے تو یہ درست نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ وقت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پون کھیڑا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس چیز میں کمی کی گئی ہے وہ دراصل ’اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی‘ ہے، جو تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو ادا کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیوٹی کے نام میں شامل ’اسپیشل‘ اور ’ایڈیشنل‘ جیسے الفاظ خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ٹیکس غیر ضروری نوعیت کا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے بعد سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مسلسل نقصانات برداشت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اب اس بوجھ کا ایک محدود حصہ اپنے اوپر لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ اقدام بھی تاخیر سے کیا گیا ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ حقیقت میں جو کمی کی گئی ہے وہ کمپنیوں پر عائد بوجھ میں ہے، نہ کہ براہ راست صارفین کو ملنے والی قیمتوں میں۔ انہوں نے اس اقدام کو محض بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’راحت صرف کہانی میں موجود ہے، حقیقت میں نہیں۔‘

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرخیاں بنانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے بجائے حقیقی معنوں میں صارفین کو راحت دینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کو 13 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 3 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل پر یہ ڈیوٹی 10 روپے سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود خوردہ قیمتوں میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔