بنگلہ دیش: سیلاب نے مچائی تباہی، کئی گاؤں غرقاب، 70 لاکھ افراد مشکل میں

اس وقت بنگلہ دیش کے کم از کم 10 اضلاع میں سیلاب کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آئندہ 24 سے 72 گھنٹوں میں کم از کم تین مزید اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

موسلادھار بارش کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سیلاب کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ 7 لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا اور تقریباً 70 لاکھ افراد مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سینکڑوں گاؤں غرقاب ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی بنگلہ دیش کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں کے کئی اضلاع میں حالات انتہائی سنگین نظر آ رہ ہیں۔ وہاں لوگوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

کچھ میڈیا ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش میں پیر کے روز سے ہی 14 ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ 'ڈھاکہ ٹریبیون' میں شائع ایک خبر کے مطابق جمال پور، کری گرام اور گیبندھ میں منگل کی صبح تک 5 لاکھ سے زائد لوگ ہجرت کر چکے تھے۔ اس ہجرت کی وجہ سے گھریلو مویشیوں کی حفاظت بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرا۔ بتایا جاتا ہے کہ برہمپتر ندی بہادر پوائنٹ پر خطرے کے نشان سے 99 سنٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش جل وکاس بورڈ (بی ڈبلیو ڈی بی) نے لال منیر ہاٹ ضلع کے ہاتی بندا علاقہ واقع تیستا بیراج پوائنٹ علاقہ میں ریڈ الرٹ جاری کیا، کیونکہ تیستا ندی خطرے کی سطح سے 53 سنٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ دبی ڈبلیو ڈی بی اور ایف ایف ڈبلیو سی کے مطابق آئندہ 72 گھنٹوں میں شمالی بنگلہ دیش اور آس پاس کے شمال مشرقی ہندوستانی ریاستوں آسام، میگھالیہ، بہار اور مغربی بنگال میں زبردست بارش جاری رہ سکتی ہے جس سے سیلاب کے خطرناک صورت حال اختیار کرنے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔

اس وقت بنگلہ دیش کے کم از کم 10 اضلاع میں سیلاب کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آئندہ 24 سے 72 گھنٹوں میں کم از کم تین مزید اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ راحت اور بازآباد کاری کے وزیر محمد انعام الرحمن نے پیر کی شام ہی کہہ دیا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ سبھی متاثرین کی فہرست بنائی جائے گی اور راحت دی جائے گی۔ بہر حال، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارش جاری رہتی ہے تو آئندہ ہفتہ کے آخر تک ڈھاکہ اور نارائن گنج کے ذیلی علاقوں میں بھی سیلاب آ سکتا ہے۔

اس درمیان گدی ماری یونین کونسل کے سربراہ اطیر رحمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی صبح 8 مہینے کی الیفا اپنی ماں کے ساتھ سو رہی تھی اور اچانک سیلاب کے پانی میں گر گئی۔ اس وقت اس کی ماں سو رہی تھی۔ بعد میں نیند سے جاگنے پر ماں نے بچی کو سیلاب کے پانی میں تیرتا پایا۔ یہ پانی تیستا ندی سے ان کے گھر میں گھس گیا تھا۔

next