وہ پانچ ایشوز جن پر چاروں جج نے اعتراض کیا...

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے چیلامیشور، رنجن گوگوئی، مدن لوکُر اور کورین جوسف نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات چیت کی جس میں ان 5 ایشوز کے بارے میں بتایا جن پر انھیں اعتراض ہے۔

سپریم کورٹ کے چار سینئر جج کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا نظام ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے چیف جسٹس سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی تھی اور چیف جسٹس سے کئی بے ضابطگیوں کی شکایت کی تھی جنھیں ٹھیک کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘‘ جسٹس جے چیلامیشور، رنجن گوگوئی، مدن لوکُر اور کورین جوسف کو جن پانچ اہم ایشوز پر اعتراض تھا وہ کچھ اس طرح ہیں:

1. پریس کانفرنس کرنے والے چاروں جج کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ میں آنے والے سبھی اہم مقدمے صرف اسی بنچ میں جا رہے ہیں جس کے سربراہ چیف جسٹس دیپک مشرا ہیں۔ اس طرح دوسرے سینئر ججوں کی قیادت والی بنچوں کو اہم مقدمات اور معاملات سے دور رکھا جا رہا ہے۔

2. چاروں ججوں کا کہنا ہے کہ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب ان مقدموں میں چیف جسٹس نے منمانے طریقے سے بنچ کا انتخاب کیا جن کا وسیع پس منظر میں غلط اثر پڑ سکتا ہے اور ان کے دور رَس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ منمانے طریقے سے بنچ کا انتخاب کرنے سے کام کی نوعیت اثرانداز ہوتی ہے۔ ججوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عمل کو ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔

3. پریس کانفرنس کرنے والے چاروں ججوں کا اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ جج بی ایم لویا کی پراسرار موت کی جانچ کا مطالبہ کرنے والی بنچ کی سماعت کورٹ نمبر 10 کے سپرد کی گئی جب کہ چیف جسٹس کی قیادت کے بعد پہلی چار سینئر بنچوں کو یہ معاملہ نہیں سونپا گیا۔

4. میڈیکل کالج ایڈمیشن گھوٹالے کی جانچ والا معاملہ چیف جسٹس نے کورٹ نمبر 7 کو بھیج دیا جب کہ جسٹس چیلامیشور کی قیادت والی بنچ نے یہ معاملہ 5 ججوں کی اس بنچ کو بھیجا تھا جس میں جسٹس چیلامیشور کے علاوہ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس گوگوئی، جسٹس لوکُر اور جسٹس جوسف شامل تھے۔ میڈیکل ایڈمیشن گھوٹالے میں کچھ موجودہ اور کچھ سبکدوش ججوں کے شامل ہونے کا الزام تھا۔

5. پریس کانفرنس کرنے والے چاروں جج کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کا ایک چھوٹی بنچ کی قیادت کرنا غلط ہے، کیونکہ اس سے پہلے اس طرح کی بنچ میں 5 جج ہوا کرتے تھے۔

سب سے زیادہ مقبول