بہار کے 5 ایم ایل اے ارکانِ پارلیمان منتخب ہونے میں کامیاب

بہار میں اس بار کے لوک سبھا انتخاب میں ممبر پارلیمنٹ بننے کے ارادے سے 12 ممبران اسمبلی انتخابی میدان میں اترے لیکن ان میں سے پانچ ہی پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پٹنہ: بہار میں اس بار کے لوک سبھا انتخاب میں ممبر پارلیمنٹ بننے کے ارادے سے 12 ممبران اسمبلی انتخابی میدان میں اترے لیکن ان میں سے پانچ ہی پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) کی حلیف جماعت جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے ٹکٹ پر سمری بختیار پور سے ممبر اسمبلی دنیش چندر یادو مدھے پورہ پارلیمانی سیٹ سے ناتھ نگر کے رکن اسمبلی اجے کمار منڈل بھاگلپور سے ، بیلہر کے ممبر اسمبلی گردھاری یادو بانکا سے اور دروندھا کی ممبر اسمبلی کویتا سنگھ سیوان سے انتخابی میدان میں اتریںاور رکن پارلیمنٹ بننے کا موقع ملا ۔ وہیں۔ مہا گٹھ بندھن کی جانب سے کشن گنج سیٹ سے کشن گنج کے رکن اسمبلی اور کانگریس امیدوار ڈاکٹر محمد جاوید نے جیت حاصل کی ۔

مدھے پورہ سیٹ سے سمری بختیار پور کے ممبر اسمبلی دنیش چندر یادو جے ڈی یو کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اترے ان کا مقابلہ جن ادھیکار پارٹی کے صدر اور گذشتہ انتخاب میں آرجے ڈی کے ٹکٹ پر کامیاب راجیش رنجن عرف پپو یادو اور راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) کے ٹکٹ پر لڑے لوک تانترک جنتادل سرپرست اور سابق ممبر پارلیمنٹ شرد یادو سے ہوا ۔ دنیش چندر یادو نے آرجے ڈی امیدوار شرد یادو کو تین لاکھ سے زائد ووٹوںکے فرق سے ہرادیا ۔ پپو یادو تیسرے نمبر پر رہے ۔

بانکا سے جے ڈی یو کی ٹکٹ پر بیلہر کے ممبر اسمبلی اور سابق ممبر پارلیمنٹ گردھاری یادو انتخابی میدان میں اترے جہاں ان کا مقابلہ آرجے ڈی امیدوار اور سال 2014 کے انتخاب میں کامیاب رہے جے پرکاش نارائن یادو اور آزاد امیدوار اور سابق ممبر پارلیمنٹ پوتل کماری سے ہوا ۔ گردھاری یادو نے بانکا سیٹ پر جیت کا پرچم لہرایا اور ممبر پارلیمنٹ بننے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے جے پرکاش نارائن یادو کو دو لاکھ سے زائد ووٹوںکے فرق سے ہرایا ۔ پوتل کماری کو تیسرے مقام پر اطمینان کرنا پڑا۔

ناتھ نگر کے ممبر اسمبلی اجے کمار منڈل جے ڈی یو کے ٹکٹ پر بھاگلپور سے انتخابی میدان میں اترے جہاں ان کا مقابلہ آرجے ڈی امیدوار سیلیش کمار عرف بولو منڈل سے ہوا ۔ اجے کمار منڈل نے آرجے ڈی امیدوار کو دو لاکھ 77 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہرایا ۔ دروندھا کی ممبر اسمبلی کویتا سنگھ جے ڈی یو کی ٹکٹ پر سیوان سے انتخابی میدان میں اتریں ۔ کویتا سنگھ کا مقابلہ سابق دبنگ ایم پی محمد شہاب الدین کی اہلیہ اور آرجے ڈی امیدوار حناشہاب سے ہوا۔ کویتا سنگھ نے حنا شہاب کو ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

مہاگٹھ بندھن کی جانب سے پرسا کے رکن اسمبلی اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ داروغہ پرساد رائے کے بیٹے چندریکا رائے سارن سے ،روسڑا ( محفوظ ) کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر اشو ک کمار سمستی پور ( محفوظ ) سے ، بیلا گنج کے رکن اسمبلی سریندر پرساد یادو جہان آباد سے ، راجا پاکڑ ( محفوظ ) کے ممبر اسمبلی شیو چندر رام حاجی پور ( محفوظ) سے ، علی نگر کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر عبد الباری صدیقی دربھنگہ سے ، امام گنج ( محفوظ ) کے رکن اسمبلی اور سابق وزیری اعلیٰ جیتن رام مانجھی گیا ( محفوظ ) سے ، کشن گنج کے رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد جاوید کشن گنج سے اور جھنجھار پور کے رکن اسمبلی گلاب یادو جھنجھار پور پارلیمانی حلقہ سے انتخابی میدان میں اترے۔ ان میں سے کشن گنج کے رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد جاوید کو چھوڑ کر دیگر اراکین اسمبلی کے رکن پارلیمنٹ بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔

کشن گنج پارلیمانی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر سابق وزیر محمد حسین آزاد کے بیٹے اور کشن گنج کے موجودہ رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد جاوید نے انتخاب لڑا۔ ڈاکٹر جاوید کا مقابلہ جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے محمود اشرف سے ہوا۔ ڈاکٹر جاوید نے جے ڈی یو امیدوار محمود اشرف کو سخت مقابلہ میں 35 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی ۔ کشن گنج ایک واحد سیٹ ہے جہاں مہا گٹھ بندھن کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے ۔