کوچی میں بنیں گےہندوستان کے پہلے ’شریعہ اپارٹمنٹس‘

ملک کے اس پہلے ’شریعہ اپارٹمنٹ‘ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کی تعمیر کچھ اس طرح سے کی جائے گی کہ فلیٹ کا رخ مکہ کی جانب ہوگا اور نزدیکی مسجد کی اذان بہ آسانی سے سنی جا سکے گی۔

کیرالہ کے ایک بلڈر نے کوچی میں ’شریعہ اپارٹمنٹ‘ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ مذہب کے تئیں عقیدت رکھنے والے مسلمانوں کو ان کے مذہب کے مطابق گھر مہیا کرانے کے لیے بلڈر نے اس آئیڈیا پر کام کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس اپارٹمنٹ میں اسلامی شریعت کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔ مغربی کوچی میں بننے جا رہے اس اپارٹمنٹ میں مکہ کی طرف رخ والے فلیٹ بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ غسل خانہ، بیت الخلا اور عبادت گاہ بھی شریعہ قانون کے مطابق بنائے جائیں گے۔

ملک کے اس پہلے ’شریعہ اپارٹمنٹ‘ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کی تعمیر کچھ اس طرح سے کی جائے گی تاکہ نزدیکی مسجد کی اذان آسانی سے سنی جا سکے۔ اس کے علاوہ نماز سے قبل غسل کرنے کے لیے الگ سے جگہ، بیت الخلاء اور دیگر چیزوں کا انتظام بھی ہوگا۔ ’شریعہ اپارٹمنٹ‘ بنائے جانے کے اس فیصلے سے متعلق علاقے میں ملا جلا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف ڈاکٹر فاطمہ نور اس طرح کے فلیٹ کی تعمیر سے خوش نظر آ رہی ہیں تو دوسری طرف جیکب میتھیو اس سے مایوس ہیں۔

ڈاکٹر فاطمہ نور کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات پر یکساں عقیدت، کھانے پینے کی یکسانیت اور ایک جیسے ماحول والے لوگ رہیں گے۔ فاطمہ بتاتی ہیں کہ انھیں گزشتہ دنوں اس وقت کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کوچی میں ہی ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لینا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شریعہ اپارٹمنٹ‘ بننے سے مسلمانوں کو فلیٹ لینے میں آسانی پیدا ہوگی۔ لیکن کئی لوگ ہیں جو اس پروجیکٹ کی تنقید بھی کر رہے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسی ہاؤسنگ کالونیوں کو فروغ دینے سے علیحدگی پسندی والی ذہنیت کو فروغ ملے گا۔ کیرالہ اپارٹمنٹ آنرس ایسو سی ایشن کے لیگل ایڈوائزر جیکب میتھیو کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سماج ذات اور مذہب کے نام پر منقسم ہے، ایسے میں اس طرح کی کوششیں سماجی تانے بانے کو مزید کمزور کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول