’ٹھاکرے حکومت‘ بننے کے بعد مودی-اُدھو کی پہلی ملاقات، پی ایم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب!

بی جے پی سے رشتہ منقطع ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی پی ایم نریندر مودی سے جمعہ کے روز پہلی ملاقات ہوئی۔ اس درمیان کچھ خاص بات چیت ہونے کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر میں زبردست اٹھا-پٹخ کے بعد شیوسینا، کانگریس اور این سی پی اتحاد والی ’ٹھاکرے حکومت‘ بن چکی ہے، اور اس حکومت تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ جمعہ کی شام پی ایم مودی سے سی ایم اُدھو ٹھاکرے کی ملاقات ہوئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پونے ہوائی اڈے پر ہوئی اس ملاقات کے درمیان پی ایم مودی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو نہیں ملی جب کہ وہاں موجود سبھی مسکراتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

دراصل پی ایم نریندرمودی پونے میں ہو رہے پولس ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل کے کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے پہنچے تھے۔ ان کا استقبال کرنے پونے ہوائی اڈے پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے علاوہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری، سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی موجود تھے۔ طیارہ سے اترنے کے بعد پی ایم مودی نے سب سے پہلے امت شاہ سے مصافحہ کیا، پھر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملے، اور پھر وزیر اعلیٰ ادھو سے مصافحہ کرتے ہوئے سابق وزیر دیویندر فڑنویس کی طرف بڑھے۔ اس درمیان سبھی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو ملی، لیکن پی ایم مودی کے چہرے پر ایسا کوئی تاثر دیکھنے کو نہیں ملا۔

یہاں قابل غور ہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب بی جے پی اور شیوسینا نے ساتھ مل کر لڑا تھا، لیکن الیکشن کا ریزلٹ برآمد ہونے کے بعد بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان وزیر اعلیٰ کی کرسی کو لے کر رسہ کشی اس قدر بڑھی کہ یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔ بعد ازاں بی جے پی نے فڑنویس حکومت بنانے اور اُدھو کو وزیر اعلیٰ بننے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن زبردست ہنگامہ اور سیاسی اتھل پتھل کے درمیان بالآخر کانگریس و این سی پی کی حمایت سے اُدھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ بی جے پی سے رشتہ منقطع ہونے کے بعد ادھو کی پی ایم مودی سے جمعہ کے روز پہلی ملاقات ہوئی۔ اس درمیان کچھ خاص بات چیت تو غالباً ان دونوں کے درمیان نہیں ہوئی، لیکن وزیر اعظم دفتر کے ذریعہ ٹوئٹر ہینڈل پر اس ملاقات کی تصویر شیئر کی گئی۔ اس تصویر میں جہاں اُدھو ٹھاکرے کا چہرے پر مسکراہٹ تیر رہی تھی، وہیں پی ایم مودی کا چہرہ پھیکا نظر آ رہا تھا۔ حالانکہ ان کے ساتھ کھڑے امت شاہ، بھگت سنگھ کوشیاری اور دیویندر فڑنویس مسکرا رہے تھے۔