پٹنہ: سی اے اے مخالف مظاہرہ میں فائرنگ، بہار الیکشن سے پہلے ماحول خراب کرنے کی کوشش!

دہلی اسمبلی انتخاب سے قبل جامعہ اور شاہین باغ میں شہریت قانون مخالف مظاہرے میں فائرنگ کر کے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اور اب ایسا ہی کچھ پٹنہ میں دیکھنے کو ملا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف پورے ملک میں گزشتہ دو مہینے سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے درمیان تشدد ہونے اور ماحول خراب کرنے کے مقصد سے شرپسند عناصر کے ذریعہ فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ تازہ معاملہ پٹنہ کے پھلواری شریف میں پیش آیا ہے جہاں جمعہ کی دیر رات کچھ شرپسندوں نے تین راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے بعد مظاہرہ کے مقام پر دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوگوں میں افرا تفری پھیل گئی۔ حالانکہ اس فائرنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

پٹنہ: سی اے اے مخالف مظاہرہ میں فائرنگ، بہار الیکشن سے پہلے ماحول خراب کرنے کی کوشش!

فائرنگ واقعہ کو بہار اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ دراصل دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی وزراء اور لیڈروں کے ذریعہ کئی اشتعال انگیز بیانات دئیے گئے تھے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ و شاہین باغ میں ہو رہے شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہرے میں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعہ ووٹ پولرائز کرنے اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب بہار اسمبلی انتخابات میں بھی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ حالانکہ انتخابات میں ابھی چھ مہینے سے زیادہ باقی ہیں لیکن ابھی سے نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔

بہر حال، میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق پھلواری شریف میں گزشتہ ایک مہینے سے لوگ سی اے اے، این آر سی و این پی آر کے خلاف دھرنا پر بیٹھے ہوئے۔ جمعہ کی دیر رات مظاہرہ کے مقام پر کچھ لوگ ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ اس واقعہ کی خبر جب مقامی تھانہ کو دی گئی تو پولس کی ایک ٹیم نے وہاں کا دورہ کیا۔ پھلواری شریف تھانہ انچارج رفیق رحمٰن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے فائرنگ واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ جائے وقوع سے ایک کھوکھا برآمد کیا گیا ہے۔

فائرنگ واقعہ کی خبر ملنے کے بعد پھلواری شریف کے ڈی ایس پی بھی جائے وقوع پر پہنچے۔ انھوں نے بتایا کہ آس پاس کے کئی سی سی ٹی وی کیمروں کے ویڈیوز دیکھی جا رہی ہیں تاکہ فائرنگ کرنے والے بدمعاشوں کی شناخت کی جا سکے۔ کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکل پر سوار چھ سے سات بدمعاشوں نے یہ فائرنگ کا واقعہ انجام دیا اور فرار ہو گئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ جمعہ کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے کا ہے جب مظاہرہ میں بیٹھے لوگوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔ دھرنے پر بیٹھی خواتین فائرنگ کی وجہ سے کافی دہشت میں نظر آئیں اور افرا تفری کا ماحول بھی پیدا ہو گیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دھرنا کے مقام سے تقریباً 200 فٹ کی دوری پر واقع مین روڈ پر یہ فائرنگ کی گئی۔