مدھیہ پردیش: ایسڈ سے دودھ بنانے کے الزام میں 4 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

ملاوٹی دودھ کے سلسلے میں گزشتہ چار ماہ میں ضلع بھنڈ میں یہ چوتھی ایف آئی آر درج ہوئی ہے ۔ چھاپہ مارنے کے دوران ڈیری آپریٹر اجے شرما نے بتایا کہ وہ دودھ جمع کرکے نووا اور پارس فیکٹری میں بھیجتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

بھنڈ: مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ کے صنعتی علاقے مالن پور میں چل رہی دودھ مصنوعات فیکٹریوں میں خطرناک کیمیکل اور ٹوائلٹ صاف کرنے میں استعمال ہونے والے ایسڈ سے بنا دودھ سپلائی کیے جانے کی بات گوهد میں چل رہی ماں مارواڑی ڈیری کے آپریٹر نے قبول کی ہے ۔اس ڈیری پر محکمہ فوڈ سیفٹی کی ٹیم نے 28 نومبر کو چھاپہ مارا تھا۔

فوڈ سیفٹی افسر رینا بنسل کے مطابق کارروائی کے دوران کئی قسم کے کیمیکل، ریفائنڈ پام آئل کے ٹین، آٹھ بوری یوریا، ایسڈ، کاسٹک سوڈا برآمد ہوا تھا ۔ رینابنسل نے بتایا کہ ایسڈ سے بنایا گیا دودھ زہر ہے ۔ اس دودھ کے استعمال سے موت بھی ہو سکتی ہے ۔ ایسا دودھ بنانے والے قتل سے بھی بڑا سنگین جرم کر رہے ہیں ہے ۔ اس ڈیری کے آپریٹر چار بھائیوں اجے شرما، وجے شرما، نند کشور شرما اور برج كشور شرما کے خلاف گوهد چوک پولس نے دھوكہ دہی سمیت دیگر دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔

ملاوٹی دودھ کے سلسلے میں گزشتہ چار ماہ میں ضلع بھنڈ میں یہ چوتھی ایف آئی آر درج ہوئی ہے ۔ چھاپہ مارنے کے دوران ڈیری آپریٹر اجے شرما نے بتایا کہ وہ دودھ جمع کرکے نووا اور پارس فیکٹری میں بھیجتا ہے ۔ پارس فیکٹری کے یونٹ ہیڈ انل ورما اور نووا فیکٹری کے آدتیہ شکلا نے بتایا کہ ماں مارواڑی ڈیری دودھ ہمارے یہاں آیا تھا ۔ لیکن ان کا سیمپل فیل ہو گیا تھا ۔ اس لئے ہم نے لیا نہیں تھا۔

ضلع کے گوهد تھانہ انچارج وی سنگھ تومر نے آج یہاں بتایا کہ فوڈ سیفٹی افسر رینا بنسل کی رپورٹ پر ملاوٹی دودھ تیار کرنے والے چاروں بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ ان کی گرفتاری کے لئے آج دو بار چھاپے مارے گئے وی سنگھ تومر نے بتایا کہ اس معاملے کی جانچ میں ابھی مزید ملزم سامنے آ سکتے ہیں۔