’فرقہ وارانہ‘ تبصرہ کرنے کے الزام میں وارث پٹھان پر مقدمہ

پولیس ذرائع نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ایک خاتون وکیل کی شکایت پر اے آئی ایم آئی ایم لیڈر پٹھان کے خلاف جمعہ کی شام ایف آئی آر درج کی گئی۔

وارث پٹھان
وارث پٹھان
user

یو این آئی

كلبرگی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اور ترجمان وارث پٹھان کے خلاف یہاں حال ہی میں منعقد شہریت ترمیم قانون (سی اےاے) کے خلاف ریلی کے دوران ہندو کمیونٹی کے خلاف تبصرے کے معاملے میں پولیس نے ایک کیس درج کیا ہے۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ایک خاتون وکیل کی شکایت پر اے آئی ایم آئی ایم لیڈر پٹھان کے خلاف جمعہ کی شام ایف آئی آر درج کی گئی۔ وارث پٹھان کے خلاف تعزیرات اخلاق کی دفعہ 117، 153 (فساد کے لئے مشتعل کرنا) اور دفعہ 153 اے (دو گروپوں میں نفرت پھیلانا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ باسوراج بومئی نے كلبرگی شہر کے پولیس کمشنر کو واقعہ کے بارے میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی ہے۔

واضح رہے کہ وارث پٹھان نے کرناٹک کے گلبرگی میں 19 فروری کو جلسہ عام کے دوران متنازعہ بیان میں کہا ’’وقت آ گیا ہے کہ ہم متحد ہو جائیں اور آزادی لیں۔ ہم 15 کروڑ ہی 100 کروڑ ہندو آبادی پر بھاری ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھ لیا ہے۔ مگر ہمیں متحد ہوکر چلنا پڑے گا۔ آزادی لینی پڑے گی اور جو چیز مانگنے سے نہیں ملتی ہے، اس کو چھین لیا جاتا ہے‘‘۔

وارث پٹھان کے اشتعال انگیز بیان پر پارٹی سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کارروائی کرتے ہوئے وارث پٹھان کے میڈیا سے بات کرنے پر روک لگا دی ہے۔ جب تک پارٹی اجازت نہیں دے گی تب تک وارث پٹھان عوامی طور پر بیان نہیں دے سکیں گے۔