گبر سنگھ کے خلاف ایف آئی آر منسوخ، سنگین طریقہ کار کی خامیوں پر سپریم کورٹ برہم
سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجے کمار اور کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ گبر سنگھ کے معاملے میں گینگ چارٹ تیار کرنے اور اسے آگے بھیجنے کے عمل میں سنگین خامیاں تھیں، جس سے پوری ایف آئی آر ہی غلط ہوجاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جب قانون کسی کام کو کرنے کا طریقہ مقرر کرتا ہے تو اس کو اسی عمل کے مطابق انجام دینا ضرری ہوتا ہے بصورت دیگر یہ منظور نہیں ہوگا۔ اس تبصرے کے ساتھ سپریم کورٹ نے گبر سنگھ عرف دیویندر پرتاپ سنگھ کے خلاف اتر پردیش گینگسٹر ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ قانون کی تعمیل ہر حال میں ضروری ہے۔ گبر سنگھ پر زمینوں پر قبضے، دھوکہ دہی، ڈرانے دھمکانے اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
جسٹس سنجے کمار اور کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ گبر کے معاملے میں گینگ چارٹ تیار کرنے اور اسے آگے بھیجنے کے عمل میں سنگین خامیاں تھیں، جس سے پوری ایف آئی آر ہی غلط ہوجاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ گینگ چارٹ کی توثیق کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے۔ اس کے تحت پہلے تھانہ انچارج (ایس ایچ او) اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) اس پر غور کرتے ہیں اور پھر مشترکہ میٹنگ میں اسے منظور کرتے ہیں۔
آخر میں تمام متعلقہ افسران کے دستخط ہونے چاہئیں۔ گینگ چارٹ پر ضروری افسران کی سفارشات اور دستخط نہیں تھے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر 28 مئی 2022 کو بہرائچ میں درج کی گئی تھی۔ گبر نے ایف آئی آر کو منسوخ کرانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ راحت نہ ملنے پر اس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
واضح رہے کہ کسی کو گینگسٹر قرار دینے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، اس لیے مقرر کردہ طریقہ کار پر انتہائی احتیاط کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر جب فرد کی آزادی داؤ پر لگی ہو، جو سب کے لیے قیمتی ہے اور قانون کے مطابق ہی اس کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔