بھگوان ’پرشورام‘ کے لیے نازیبا الفاظ کہنے والے بی ایچ یو ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر

وارانسی کمشنریٹ کے پولیس ڈپٹی کمشنر آر ایس گوتم نے بتایا کہ لنکا تھانہ میں سوربھ تیواری نامی شخص نے ڈاکٹر اوم شنکر کے خلاف درخواست دی تھی، اس شکایت پر متعلقہ دفعات میں کیس رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اوم شنکر کی فائل تصویر
ڈاکٹر اوم شنکر کی فائل تصویر
user

تنویر

وشنو کے چھٹے اَوتار کی شکل میں پوجے جانے والے بھگوان پرشورام کو قاتل بولنا بی ایچ یو اسپتال کے ڈاکٹر اوم شنکر کے لیے بھاری پڑ گیا ہے۔ محکمہ امراض قلب کے ہیڈ ڈاکٹر اوم شنکر کے خلاف پولیس نے ایک شکایت دہندہ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ایف آئی آر وارانسی کے لنکا تھانہ میں الگ الگ دفعات میں درج کی گئی ہے اور پورے معاملے کی جانچ بھی شروع ہو گئی ہے۔

’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق کچھ دنوں قبل بی ایچ یو اسپتال کے ڈاکٹر اوم شنکر نے اپنے فیس بک پوسٹ میں پرشورام پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے انھیں قاتل کہہ ڈالا تھا۔ اس طرح کے نازیبا الفاظ سے کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی اور معاملہ تھانہ تک پہنچ گیا۔


اس معاملے میں شکایت دہندہ بی ایچ یو کے ہی لاء فیکلٹی کے سابق اسٹوڈنٹ اور ابھی الٰہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل سوربھ تیواری نے بتایا کہ ان کی جانب سے بی ایچ یو اسپتال کے ڈاکٹر اوم شنکر کے خلاف متعلقہ لنکا تھانہ میں تعزیرات ہند 1860 کی دفعہ 153اے اور 295اے کے ساتھ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی (ترمیم شدہ) ایکٹ 2008 کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر اوم شنکر نے پرشورام کے خلاف اپنے فیس بک پوسٹ میں دو مرتبہ قاتل لفظ کا استعمال کیا تھا۔

اس پورے معاملے میں وارانسی کمشنریٹ کے پولیس ڈپٹی کمشنر آر ایس گوتم نے بتایا کہ لنکا تھانہ میں سوربھ تیواری نامی شخص نے ڈاکٹر اوم شنکر کے خلاف درخواست دی تھی۔ اس شکایت پر متعلقہ دفعات میں کیس رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دلائل اور ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کرائی جائے گی۔ مقدمہ آئی پی سی اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت موزوں دفعات میں رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔