’دہلی فساد متاثرین کو سکھ فساد 1984 کی طرز پر مالی امداد فراہم کی جائے‘

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا تیسری بار فساد زدہ علاقے کا دورہ، جمعیۃ کے کاموں کا جائزہ لیا

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: روز اول سے دہلی فساد متاثرین کی بازآبادکاری اوران کو قانونی امداد پہنچانے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی آج صبح تیسری بار فساد زدہ علاقہ پہنچے اور متاثرین سے ملاقات کرکے ان کو ہر ممکن تعاون دینے کا عزم ظاہر کیا۔

اس درمیان مولانا مدنی نے مدینہ مسجد شیووہار کا بھی دورہ کیا، جس کو فسادیوں نے سیلنڈر کے ذریعہ تباہ کردیا ہے۔ مولانا مدنی نے جمعیۃ کے کارکنان کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے کاموں کا جائزہ لیا اور کہا کہ اس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

’دہلی فساد متاثرین کو سکھ فساد 1984 کی طرز پر مالی امداد فراہم کی جائے‘

انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند بلاتفریق مذہب و ملت متاثرین کی بازآباد کاری، ان کو دوبارہ روزگار سے جوڑنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام اور مظلوموں کو انصاف دلانے پر کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے، اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر رکھی ہے، جس پر عدالت نے حکومتوں کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی انکوائری میں شفافیت لانا اور بلاتفریق تفتیش کرکے اصل خاطیوں کو سامنے لانے کے لیے ایس آئی ٹی کی تشکیل ضروری ہے۔ جب تک فسادیوں کو اس کا یقین نہ ہوجائے کہ وہ قانون کی پکڑ سے بچ نہ پائیں گے، فسادات کو روکا نہیں جاسکتا، اس کے علاوہ پولس انتظامیہ کو بھی جواب دہ بنانا ضروری ہے۔ جہاں تک معاوضہ کا مسئلہ ہے تو ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ ریاستی سرکار کو ہدایت دے کہ سکھ فساد 1984 کی طرز پر موجودہ فساد متاثرین کو معاوضہ دے۔

’دہلی فساد متاثرین کو سکھ فساد 1984 کی طرز پر مالی امداد فراہم کی جائے‘

مولانا مدنی کے دورہ کے وقت ان کے ساتھ مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مولانا اخلاق قاسمی مصطفی آباد، مولانا غیور قاسمی، مولاناجمال قاسمی، مولانا عرفان قاسمی سمیت مقامی ذمہ داران موجود تھے۔ مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ گزشتہ کل جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے 19؍کاروباریوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے حسب ضرورت چیک کی شکل میں رقم دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مکانوں کی مرمت کا م شروع ہو چکا ہے۔

next