ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان کوٹلہ کے قلعہ میں چھڑے گی فیصلہ کن جنگ

ٹیم انڈیا مسلسل دو میچ گنوانے کے بعد سکتے میں ہے، آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن مقابلہ کوٹلہ کے میدان پر کھیلا جائے گا جہاں اس پر سریز جیت کے ساتھ ورلڈ کپ کے لیے خود کو تیار ثابت کرنے کا بھی دباؤ ہوگا۔

تصویر /&nbsp;<a href="https://twitter.com/BCCI">@BCCI</a>
تصویر /<a href="https://twitter.com/BCCI">@BCCI</a>
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم مسلسل دو میچ گنوانے کے بعد سکتے میں ہے اور اب آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن مقابلہ کوٹلہ کے میدان پر بدھ کو کھیلا جائے گا جہاں اس پر سریز جیت کے ساتھ ساتھ آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے خود کو تیار ثابت کرنے کا بھی دباؤ ہوگا۔

ہندستانی ٹیم پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں 2-0 سے آگے تھی لیکن اس کا جوش اور کھلاڑیوں کی غیر مسلسل کارکردگی سے وہ رانچی میں 32 رنز اور موہالی میں چار وکٹ سے تیسرا اور چوتھا مقابلہ گنوا بیٹھی۔ مسلسل دو میچ ہارنے کے بعد مہمان آسٹریلیا سیریز میں 2-2 کی برابری پر پہنچ گئی ہے اور کوٹلہ میں ہونے والا آخری میچ فیصلہ کن بن گیا ہے۔

وراٹ کوہلی کی قیادت والی ٹیم انڈیا کے لیے موجودہ سریز کو مئی میں انگلینڈ میں ہونے والی اہم آزمائش سے پہلے پری بورڈ کی طرح دیکھا جا رہا تھا لیکن اس کی حالیہ کارکردگی، خراب فیلڈنگ، اوپننگ آرڈر کی کارکردگی میں تسلسل اور کامل مجموعہ کی کمی نے ٹیم مینجمنٹ کو یقینی ہی فکر میں ڈال دیا ہے۔

ہندستان نے موہالی میں چوتھا ون ڈے اپنی غلطیوں سے گنوایا اور ٹیم 358 رنز کے بڑے اسکور کا بھی دفاع نہیں کر سکی۔ گزشتہ طویل عرصے سے پریشان کر رہی روہت شرما اور شکھر دھون کی اوپننگ جوڑی نے پہلے وکٹ کے لئے 193 رن کی بہترین شراکت کر اچھی شروعات دلائی اور ٹریک پر بھی لوٹی۔ لیکن اس بار بولروں اور وكٹ كيپنگ میں اس کی ناقص کارکردگی سے میچ ہاتھ سے نکل گیا۔

مہندر سنگھ دھونی کے آرام کے سبب آخری میچوں کے لیے ٹیم میں واپسی کرنے والے نوجوان وکٹ کیپر رشبھ پنت نے وکٹ کے پیچھے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلیا نے ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر 13 گیندباقی رہتے ہی میچ جیت لیا۔ ٹیم انڈیا کے اس مظاہرے نے صاف کر دیا کہ اس نوجوان ٹیم کو بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کے تینوں شعبوں میں غلطیاں سدھارنے کی ضرورت ہے۔
موہالی میں ٹیم کے لئے اس کی گیند بازی سردرد بنی اور 350 سے زائد کے اسکور کا بھی دفاع نہیں ہو پایا۔ا سٹار اسپنر یجویندر چہل 80 رنز لٹاكر ایک وکٹ لے سکے اور مہنگے ثابت ہوئے جبکہ کیدار جادھو نے پانچ اوورزمیں 44 رنز دیے اور آخری میچ میں ان پر اچھی کارکردگی کا دباؤ رہے گا۔ گزشتہ میچوں میں متاثر کرنے والے آل راؤنڈر وجے شنکر نے ہی پانچ اكونومي ریٹ پر گیند بازی کر اچھا مظاہرہ کیا۔

کوٹلہ میں فیصلہ کن میچ میں گیند بازوں کے لیے وکٹ نکالنے کے ساتھ کفایتی گیند بازی کرنا اہم ہو گا ۔ موہالی میں فاسٹ بولر جسپريت بمراه 63 رن پر تین وکٹ لے کر سب سے کامیاب رہے تھے جبکہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد سمیع کی جگہ ٹیم میں واپس آئے بھونیشور کمار بھی ٹیم کے اہم گیندبازوں میں ہیں ۔ چائنا مین بولر کلدیپ یادو کی بھی چوتھے میچ میں کارکردگی تسلی بخش تھی اور ایک بار پھر ان سے اسی کارکردگی کی توقع رہے گی۔

بلے بازی کے آرڈر کی بات کریں تو مسلسل فلاپ رہنے کی وجہ سے تنقید کا شکار رہے شکھر دھون نے گزشتہ میچ میں اپنی 143 رنز کی بہترین ون ڈے اننگز سے فی الحال سب کو ٹھنڈا کر دیا ہے لیکن انهیں اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہو گا اور دہلی کے اپنے گھریلو گراؤنڈ پر امید رہے گی کہ وہ حامیوں کے سامنے ایسی اننگز کھیلیں۔

وہیں کپتان وراٹ کوہلی کا بھی یہ گھریلو میدان ہے جو ٹیم کے بہترین اسکورر ہیں۔ وراٹ نے اس میدان پر چھ میچوں میں 202 رن بنائے ہیں جبکہ اس میدان پر سچن تندولکر کے نام آٹھ میچوں میں سب سے زیادہ 300 رنز بنانے کا ریکارڈ ہے۔ گزشتہ میچوں میں 72، 44، 116، 123 اور 07 رنز کی اننگز کا عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کپتان بھی اپنے گھر میں طوفانی اننگز کھیلنا چاہتے ہیں۔

ٹیم انڈیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ وراٹ پر انتہائی انحصار سے بچیں۔ بلے بازی آرڈر میں لوکیش راہل کو امباٹي رائیڈو کی جگہ لیا گیا ہے اور موہالی میں وہ بہت اچھا اسکور نہیں بنا سکے، لیکن عالمی کپ میں انہیں ایک متبادل اوپنر کی طرح دیکھا جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ وراٹ انہیں ایک اور موقع دیں۔

موہالی کی کارکردگی کے بعد کم از کم روہت اور دھون کی اوپننگ جوڑی پر ایک بار پھر اعتماد بڑھا ہے لیکن مڈل آرڈر میں بھی ٹیم کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ میچ میں وکٹ کیپر پنت نے 36 رنز کی مفید اننگز کھیلی تھی لیکن وکٹ کے پیچھے اپنے کردار کو درست طریقے سے نبھانے میں وہ چوک گئے۔ اگرچہ نوجوان پنت کے پاس کوٹلہ میں غلطیاں بہتر بنانے کا موقع رہے گا۔

کوٹلہ کی سست پچ پر آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کو شنکر کی جگہ اتارا جا سکتا ہے۔ شنکر نے گزشتہ میچوں میں اچھی کارکردگی کی ہے لیکن لیفٹ آرم اسپنر جڈیجہ اس پچ پر تکنیکی طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر جڈیجہ کو موقع دیا گیا تو چہل کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف آسٹریلوی ٹیم مسلسل دو میچ جیت کر حوصلہ افزا ہے اور کوٹلہ میں اس کے لئے بھی برابری کا موقع رہے گا۔ عالمی کپ سے پہلے ہندستان کو ہندوستان میں شکست دے کر اس سریز میں فتح بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے جس کے لئے وہ پورا زور لگايےگي۔آرون فنچ، عثمان خواجہ، پیٹر هینڈاسكومب، گزشتہ میچ کے ہیرو ایشٹن ٹرنر سے ٹیم کو بڑی امیدیں ہیں جبکہ جوئے رچرڈسن، موہالی میں پانچ وکٹ چٹكانے والے پیٹ کمنز، ایڈم زمپا بولنگ آرڈر میں اس کی بڑی طاقت ہیں۔

وہیں ٹیم انڈیا کا کوٹلہ میدان میں کافی شاندار ریکارڈ رہا ہے۔ ہندستانی ٹیم اس میدان پر 1987 کے بعد سے ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست ہے۔ ہندستان نے کوٹلہ میں گزشتہ 12 ٹسٹ میچوں میں 10 جیتے ہیں اور دو ڈرا کھیلے ہیں۔ اس میدان پر ٹیم نے 20 ون ڈے کھیلے ہیں جن میں سے اسے 12 میں جیت ملی ہے اور بدھ کو اس کی کوشش اس ریکارڈ کو بچانے کی رہے گی۔

next