سی اے اے کے خلاف لڑائی ہندو بنام مسلم نہیں ہے: ششی تھرورو

شہریت ترمیمی قانون کا مقصد ہی فرقہ واریت کو بڑھاوا دینا ہے اور اگر اس کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا رنگ فرقہ وارانہ ہوگیا تو اس سے ہندوستان کے بنیادی نظریہ کو شدید نقصان ہوگا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

تین مسلم اکثریتی ممالک کے مسلم فرقہ کو شہریت ترممی قانون سے باہر رکھنے کا مقصد ہی ملک میں فراقہ واریت کو بڑھاوا دینا نظر آ رہا ہے، لیکن اگر ملک میں جاری اس قانون کے خلاف مظاہروں کو مسلمانوں کا مظاہرہ بنا دیا گیا تو اس سے ملک کے سیکولر نظریہ کو شدید نقصان ہوگا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اس تعلق سے وارننگ بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف چل رہی تحریک کو بالکل بھی فرقہ وارانہ نہیں ہونے دینا چاہیے۔

ششی تھرور نے اپنے کئی ٹویٹس میں کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج بنیادی طور پر آئینی اقدار کے لئے لڑائی ہے اور یہ کوئی ہندو بنام مسلمان کی لڑائی نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کے سیکولر نظریہ کے لئے احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعہ ہندوستان کے بنیادی نظریہ کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندتوا فرقہ واریت کی لڑائی مسلم فرقہ واریت کے فروغ سے نہیں لڑی جا سکتی۔ ششی تھرور نے بہت صاف الفاظ میں کہا کہ بی جے پی اس موقع کی تلاش میں ہے کہ سی اے اے کے خلاف تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جائے۔

ششی تھرور نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس پوری تحریک کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش ہو رہی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ ہندوستان کے بنیادی نظریہ کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔ واضح رہے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں پر پولیس کارروائی صرف ان ریاستوں میں ہوئی ہے جہاں پر بی جے پی بر سراقتدار ہے اور پولیس کارروائی سے اس سارے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہوئی اور ان ریاستوں کی حکومتیں کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

next